خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 7
خطبات طاہر جلد ۶ 7 خطبہ جمعہ ۲/ جنوری ۱۹۸۷ء وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا اور اللہ اور اس کے رسول جو کچھ بھی ان آنے والے کو دیتے تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے دیئے ہوئے اموال میں سے، اس پران کے دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہیں ہوتی تھی کہ ہم خرچ کر رہے ہیں ، ہم قربانیاں کر رہے ہیں ، جب اللہ تعالیٰ غنیمت کا مال عطا کرتا ہے تو یہ مہاجرین کو دے دیتے ہیں اور انصار جن پر ان کا بے حد قرضہ ہو چکا ہے، جو اپنے اموال میں شریک کر کے ان کے سارے بوجھ اُٹھائے ہوئے ہیں ان کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اس قسم کا کوئی خیال، کوئی وہمہ بھی ان کے دل میں نہیں آتا تھا بلکہ وہ خوشی محسوس کرتے تھے کہ ہمارے محبوبوں کو خدا تعالیٰ کچھ اور عطا فرمارہا ہے۔اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب ان کو کچھ دیا جاتا تھا تو اس کے لئے کچھ حاجت محسوس نہیں کرتے تھے، یعنی ان کی نظر میں کوئی حرص نہیں تھی، کوئی لالچ نہیں تھی۔یہ نہیں تھا کہ اپنے جذبے دبا کے بیٹھے ہوئے ہیں۔منہ سے تو نہیں مانگتے لیکن دل میں بے قرار تمنا ہے کہ کسی طرح ہمیں بھی کچھ مل جائے بلکہ ملتا تھا بھی تب بھی اپنے آپ میں کوئی ایسی رغبت محسوس نہیں کرتے تھے کہ گویا تمنا کے بعد کوئی چیز ملی ہے۔مگر انکار بھی نہیں کرتے تھے کیونکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ہاتھوں سے ایک تنکا بھی کسی کو ملتا تھا تو وہ اپنی عزت افزائی سمجھتا تھا۔پھر فرماتا ہے وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ یہ عجب لوگ ہیں کہ جن کے اندر یہ ایثار کی حسین عادتیں، یہ دلکش اطوار اس لئے نہیں ہیں کہ یہ بہت امیر ہیں۔امارت کی وجہ سے، اموال کی کثرت کی وجہ سے ان کو ضرورت ، فرق کوئی نہیں پڑتا۔فرمایا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ یہ اپنے نفسوں پر اللہ کی راہ میں آنے والوں کو، اور دوسروں کی ضروریات کو اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں باوجود اس کے خود سخت تنگی میں مبتلا ہوتے ہیں۔یعنی ان میں ایسے بھی ہیں جو خود شدید غربت کا شکار ہیں لیکن اس کے باوجود اپنے اوپر اسلام کی ضرورتوں کو ترجیح دے رہے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں لذت پا رہے ہیں وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَيْكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ