خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 842 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 842

خطبات طاہر جلد۵ 842 خطبہ جمعہ ۱۹ رد سمبر ۱۹۸۶ء کشادہ پیشانی کے ساتھ اور مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کرسکیں۔یہ تو ماؤں کا جگرا ہے کہ رات کو بھی اٹھتی ہیں اور ان کی ہر مصیبت اور ہر تکلیف کے وقت ان کا ساتھ دیتیں اور ان کو صاف ستھرا بناتی۔جب وہ تیار ہو کر باہر آجائیں تو ان سے پیار کر لینا یہ تو کوئی اتنی بڑی انسانیت نہیں ہے یہ تو ایک طبعی اور فطری چیز ہے پھول سے بھی تو آپ پیار کر لیتے ہیں۔کانٹے سے پیار، یہ ہے امتحان اور اس امتحان پر مائیں پورا اترا کرتی ہیں یا باپ پورا اترتے ہیں کسی حد تک۔سوسائٹی اس بات کی اہل ہی نہیں ہے کہ وہ اس حالت میں ان بچوں کو پکڑے۔جب شعور کی دنیا میں وہ داخل ہور ہے ہو نگے پھر وہ آپ کی دنیا ہو جائے گی پھر آپ بھی شعور کی دنیا میں رہنے والے ہیں آپ ایسی باتیں ان سے کر سکتے ہیں جس کی زبان وہ سمجھیں اور اس زبان میں وہ آپ کو جواب دیں۔پس اسلام کا نظام ایک بہت ہی گہرا اور مستحکم نظام ہے اس میں خلا کوئی نہیں ہے لیکن ذمہ داریاں الگ الگ ہیں اور معین کی گئی ہیں۔اس لئے جہاں تک اس ضرورت کا تعلق ہے جو ہمارے اس مخلص دوست کو محسوس ہوئی ہے اس سے ایک ذرہ کا بھی مجھے اختلاف نہیں۔ہاں جو طرزان کے ذہن میں ابھری اس سے مجھے اختلاف ہے جس کے دلائل میں نے بیان کئے کہ کیوں اختلاف ہے۔لیکن میں ماں باپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ہے خصوصاً ایسے علاقوں میں بسنے والے ماں باپ پر جیسے یہ علاقہ ہے جہاں ہم آج کل بس رہے ہیں اور آج کل زندگی کے دن گزار رہے ہیں ، جیسے یورپ کی اور ریاستیں ہیں، جیسے مشرق بعید کی بعض ریاستیں ہیں جیسے ہندوستان کے بعض علاقے ہیں۔ان سب علاقوں میں غیر معمولی طور پر غیر اسلامی قدرمیں غالب ہیں۔سکول جانے کی بچے کی جو عمر ہے وہ سات سال سے پہلے شروع ہو جاتی ہے اور اس عمر میں جو نہایت ہی حساس عمر ہے یعنی چار سال یا ساڑھے چار سے لے کر سات سال کا زمانہ یہ خصوصیت کے ساتھ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے۔جو بچے وہاں ننگے بچوں کو کھیلتے دیکھتے ہیں ننگی لڑکیوں کو نہاتے دیکھتے ہیں اور اس قسم کی بہت سی حرکتیں ناچ گانے۔آپ یہ نہ سمجھیں کہ وہ بچے ہیں ان کے اوپر بہت ہی گہرے اثرات مترتب ہورہے ہیں اور بعض دفعہ اس رنگ میں احساسات ان کے ذہنوں کے نقش و نگار بن رہے ہوتے ہیں کہ بعد میں آپ کھر چنے کی کوشش کریں تو زندگی کھرچی جاسکتی ہے مگر وہ نقش و نگار نہیں کھر چے جاسکتے ہیں۔مستقلاً انکے نفسیاتی وجود کا ایک حصہ بن چکے ہوتے ہیں جس طرح کسی