خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 843 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 843

خطبات طاہر جلد۵ 843 خطبہ جمعہ ۱۹ رد سمبر ۱۹۸۶ء سانچے میں کوئی چیز پچھلی ہوئی ڈال دی جائے جب وہ جم جائے گی تو پھر توڑی جاسکتی۔ہے پھر وہ ڈھالی تو نہیں جاسکتی اس لئے نہایت ہی اہم دور ہے اس دور میں ماں باپ کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ وہ ایسے بداثرات کے مقابل پر بالا رادہ نیک اثرات پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس میں ان کے لئے بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر ان کو خود عمل کرنا پڑے گا۔اپنی زندگی کی نہج بدلے بغیر وہ اس عمر میں بچے پر نیک اثر نہیں ڈال سکتے۔وہ سننے سے زیادہ دیکھ کر اثرات قبول کر رہا ہے۔سن کر بھی کرتا ہے تو لاشعوری طور پر کر رہا ہے۔سمجھ کر نہیں کر رہا طبعا فطرتا جس کو Instinct کہتے ہیں Instinct کے ذریعہ جو چیز اس کو اچھی لگ رہی ہے وہ اسے قبول کر رہا ہے اور Instinct کے ذریعہ جو چیز سے بری لگ رہی ہے وہ اس سے دور ہٹ رہا ہے۔کھانے کے معاملہ میں آپ دیکھ لیں اس عمر میں آپ بچے کو لاکھ کوشش کریں گے کہ یہ چیز اچھی سے یہ کھاؤ وہ کہے گا کہ نہیں مجھے نہیں اچھی لگتی لیکن جب وہ سات سال یا اس سے بڑا ہو جائے یا کم و بیش اس عمر کو پہنچے تو پھر وہ بات کو سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں میں کوشش کرتا ہوں اور کچھ دیر کوشش کے بعد اس کو اچھی بھی لگنے لگ جاتی ہے بعض بیوقوف مائیں جو چیز ان کے نزدیک اچھی ہوتی ہیں وہ بچے کو مار مار کے کھلا رہی ہوتی ہیں یہ سوچ ہی نہیں سکتیں کہ یہ بہت بھیانک حرکت ہے۔بعض دفعہ اس سے ہمیشہ کے لئے نفرت پیدا ہو جاتی ہے بعض دفعہ نفسیاتی بیماریاں ایسی پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے ہرگز کبھی ایسی حرکت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔تو زبردستی کی عمر بہر حال نہیں، پیار کی عمر ہے اور پیار کی عمر بھی ایسی کہ دلکشی کی عمر ہے اگر آپ دلکشی کے ذریعہ سے اس بچے کی فطرت پر اثر انداز ہوں گے تو بچہ اثر کو قبول کرے گا۔بھیانک بن کر آپ اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔طوعا و کرھا دو ہی پہلو ہیں۔اسکو بھیا نک بنیں تو دور بھاگے گا ہر اس قدر سے جس کے لئے آپ بھیانک بن کر کوشش کرتے ہیں اس میں آپ نا کام ہو جائیں گے اور دور بھاگے گا۔اس چیز سے جس کی طرف آپ اس کو لانا چاہتے ہیں اس کو پیار ہونا ضروری ہے اور وہ دلکشی سے ہوسکتا ہے زبر دتی کا پیار کبھی ممکن ہی نہیں ہے۔اس کے لئے ماں باپ کو بڑی ذہانت کے ساتھ اور بیدار مغزی کے ساتھ اپنے بچوں میں اس عمر میں دلچسپی لینی چاہئے۔اگر نماز کی محبت پیدا کرنی ہے تو اگر اپنے ماں باپ کو سج دھج کر با قاعدہ پیار کے ساتھ ، سلیقہ کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھیں گے تو شروع میں ہی بیشتر اس کے کہ وہ سکول جانے