خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 841 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 841

خطبات طاہر جلد۵ 841 خطبه جمعه ۱۹ ؍ دسمبر ۱۹۸۶ء ہی بیٹا میں تمہیں عطا کروں گا۔اس لئے حضرت مصلح موعودؓ سے اس بنیادی معاملہ میں غلطی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔یہ حکمت تھی سات سال کے بعد بچوں کو نظام کے سپرد کرنے کی اس سے پہلے دخل دینے کی اجازت نہ دینے کی اور اس نظام کو جو بڑے گہرے شرعی فلسفے پر مبنی ہے کوئی خلیفہ بھی آئندہ تبدیل نہیں کر سکتا لیکن جوان کو خلا نظر آرہا ہے وہ خلا اپنی جگہ موجود ہے اس کی طرف توجہ دلا نا خلفاء کا کام ہے اور ماں باپ کو یاد دہانی کروانا جن کے بچے ہیں اور جن کے سپرد ہیں اور جو پوچھے جائیں گے جن کے متعلق قرآن کریم کا حکم ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُمْ نَارًا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو آگ کے عذاب سے بچاؤ۔تو سوسائٹی ان بچوں سے زیادہ پیار رکھتی ہے زیادہ ، ہمدردی رکھتی ہے، زیادہ ان پر حق رکھتی ہے، بہ نسبت ان کے جنہوں نے بچپن کے زمانہ میں بڑی مصیبتیں جھیل کر اور بڑی قربانیاں دے کر اپنی اولا د کو پروان چڑھایا ہے جو ان کے خون سے بنے ہیں ، ان کی ہڈیوں کے حصے ان میں داخل ہوئے ہیں۔ان کے عملاً جگر گوشے ہیں ان سے ان کو الگ نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی ذمہ داریوں کی طرف ان کو متوجہ کیا جا سکتا ہے۔پھر یہ زمانہ محنت طلب بہت ہے۔اس وقت سوسائٹی کی نظر میں جو بچے ہیں چھوٹی عمر کے بچے ان کو تو بچے صرف اس وقت اچھے لگتے ہیں جب وہ تیار ہوکر سج دھج کر باہر نکل آئیں جب وہ بیمار نہ ہوں ، جب وہ ضد نہ کر رہے ہوں، جب وہ شور نہ مچارہے ہوں ، جب کوئی چیز نہ تو ڑ رہے ہوں اس وقت وہ سوسائٹی کو بڑے پیارے لگتے ہیں۔جب ان میں سے کوئی حرکت شروع کر دیں تو دیکھنے والوں کے اچانک تیور بدلنے لگتے ہیں۔آپ کے گھر میں بچہ کسی دوست کا آجائے تو آپ دیکھیں آپ کو کتنا پیارا لگے گا اگر وہ بڑا سجا دھا اچھی اچھی باتیں کر رہا ہے لیکن جس وقت اس نے آپ کے گلدان پر توڑنے کے لئے ہاتھ ڈالا تو پھر دیکھیں آپ کے تیور کیسے بدلتے ہیں۔جس وقت اس کا کوئی فضلہ نکلا ، بد بو پھیلی اور پھر اسی حالت میں کرسیوں پر بیٹھنے لگا یا کھانے میں ہاتھ ڈال کر اس نے آپ کے کپڑوں سے ملنے کی کوشش کی پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ بچے کیا ہوگا۔اس عمر میں بچوں کو غیروں سے سپر د کر دینا جو اتنا حوصلہ ہی نہیں رکھتے کہ ان کے منفی پہلوؤں میں بھی حوصلے کے ساتھ چل سکیں جن میں استطاعت ہی نہیں ہے کہ وہ ان کے تکلیف دہ حصوں کو