خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 76
خطبات طاہر ۵ 76 خطبه جمعه ۲۴ /جنوری ۱۹۸۶ء اشتراکیت کا غلبہ چاہتا ہے لیکن زرد رنگ کی اشتراکیت کا غلبہ نہیں چاہتا بلکہ سفید فام اشتراکیت کا غلبہ چاہتا ہے۔جیسا کہ غالب نے کہا ہے: آئیں وہ یہاں خدا کرے ، پر نہ کرے خدا کہ یوں (دیوان غالب صفحه : ۱۸۹) آئیں تو سہی لیکن اس طرح نہ آئیں کہ رقیب کے ساتھ آئیں۔پس روس بھی رز د فام قوموں کے غلبہ کو خواہ وہ اشتراکیت کے نام پر ہو، اشتراکیت کی وجہ سے ہو کسی صورت میں قبول نہیں کر سکتا۔پس نظریات کی دنیا ہو یا سیاست کی عام دنیا ہو۔کسی پہلو سے آپ دیکھیں آج دنیا میں بڑے بڑے اختلافات جو نہایت ہی خوفناک جنگوں پر منتج ہو سکتے ہیں ، جو عالمگیر تباہیوں پر منتج ہو سکتے ہیں ان کی بنیا نسلی افتخار کے تصور پر قائم ہے۔پس قرآن کریم نے فرمایا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمِ ایک قوم اپنے آپ کو دوسری قوم سے بڑا سمجھتے ہوئے اس کی تحقیر نہ کرے۔اس کو اپنے سے ادنیٰ نہ جانے۔اس کے معا بعد قرآن کریم فرماتا ہے کہ کوئی عورت کسی عورت کے اوپر تفاخر اختیار نہ کرے اور اس سے مذاق ان معنوں میں نہ کرے کہ وہ اس کی تحقیر کر رہی ہو۔قوموں کے مقابل پر عورت کو رکھ دینا بظاہر یہ ایک بے جوڑ بات دکھائی دیتی ہے۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ قومی تفاخر کے بعد معاشرتی تفاخر۔قومی تفاخر کا ذکر ہے عالمی حیثیت سے اور معاشرتی تفاخر کے طور پر عورت کو پیش کیا گیا ہے ایک نمائندہ کے طور پر کیونکہ معاشرے میں جتنی بھی برائیاں پھیلتی ہیں ایک دوسرے پر بڑائی دکھاتے ہوئے وہ عورت کی طرف سے زیادہ تر رونما ہوتی ہیں اور عورت کا مزاج اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ دوسرے کے اوپر، دوسرے خاندانوں کے اوپر، دوسری عورتوں لڑکیوں کے اوپر ، اپنی بڑائی خاندانی طور پر ظاہر کرے اور اپنے آپ کو بہتر سمجھے۔بہت کم آپ کو مرد ایسے نظر آئیں گے جو خاندانی طور پر اپنی فوقیت جتانے کے نتیجے میں کسی لڑائی کو پیدا کرنے والے بنے ہوں لیکن معاشرے کو اکثر لڑائیاں عورتوں کے ان طعنوں کے نتیجہ میں ہوتی ہیں کہ تم کس خاندان کی ہو اور وہ کس خاندان کا ہے۔اس کی ذات کیا ہے، اس کی قومیت کیا ہے اور رشتے ڈھونڈتے وقت بھی یہ ساری باتیں چلتی ہیں اور اگر رشتہ ہو جائے تو پھر بھی مسلسل یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔تو جہاں بڑائی زیادہ شدت کے ساتھ پائی جاتی تھی اسے نمایاں