خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 75

خطبات طاہر ۵ 75 خطبہ جمعہ ۲۴ جنوری ۱۹۸۶ء جتنے دکھ پھیلے ہیں اور ابھی تک South Africa جن دکھوں سے گزر رہا ہے اس کی بنیاد یہی قومی تفاخر ہے۔ایک قوم کو خیال ہے کہ وہ دوسری قوم سے بہتر ہے۔اسرائیل کے قیام کا تصور بھی اسی غلط خیال کا نتیجہ ہے۔اسرائیلی قوم کو بھی یہ گمان ہے کہ وہ خدا کے دوسروں بندوں سے بہتر ہے اس لئے محض قومیت کی بناء پر انہوں نے اپنا ایک عالمی مرکز قائم کرنے کا حق دنیا سے تسلیم کروایا اور محض نسلی امیتاز کی بناء پر وہ اکٹھے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہودیت میں سے مذہب کا حصہ اب تقریباً عنقاء ہو چکا ہے۔ایک نسل کے فخر کا ایک احساس ان کے دلوں میں ایسا شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے کہ آج دنیا پر جو تفوق چاہتے ہیں جو تسلط پیدا کرنا چاہتے ہیں خالصہ نسلی امتیاز کے نظریہ پر یہ کوشش کی جارہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسی اعلیٰ نسل کے لوگ ہیں کہ تمام دنیا پر حکومت کا حق رکھتے ہیں اور عجیب بات ہے کہ نازیوں کے ذریعے خدا تعالیٰ کی تقدیر نے ان کو مار پڑوائی جن کا اپنا یہی نظریہ تھا۔بعض کے ذریعے بعض کو جب خدا سزا دلواتا ہے تو ویسے ہی بعض کو چتا ہے ان کے لئے۔لوہا لوہے کو کا تا ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ لکڑی سے آپ لوہا کاٹیں اس لئے جب ایک بد کو دوسرے بد سے سزا دلوانی ہے تو ان میں ایک ہی جیسی خصلتیں پائی جاتی ہیں۔ایسی خصلتوں کے لوگ خدا اختیار فرماتا ہے جو کسی دوسرے بد کے پلے کے ہوں، جس طرح خدا کی تقدیر چاہے سزا دے بھی سکتے ہوں۔اسی طرح مغربی ممالک میں جو نسلی امیتاز کے نتیجے میں آئے دن لڑائیاں ہوتی ہیں قتل و غارت ہوتے ہیں۔انگلستان میں کیا ہو رہا ہے، مغربی جرمنی میں کیا ہورہا ہے، دیگر ممالک میں کیا ہو رہا ہے۔ان سب کی بنیاد یہ نسلی تفاخر کا تصور ہے۔اشترا کی دنیا جو دو نیم ہو چکی ہے اور یورپین اشتراک ،اشترا کی نظریہ بنیادی طور پر اگرچہ مشرقی اشترا کی نظریہ کے مطابق ہے اس سے ہم آہنگ ہے۔اس کے باوجود چین میں اشتراکیت اور روس میں اشتراکیت میں ایک نمایاں فرق پیدا ہو گیا ہے۔چینی اشتراکیت روسی اشتراکیت کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نہیں آگے بڑھ سکتی۔اتنے شدید بنیادی اختلاف پیدا ہو چکے ہیں کہ ایک دوسرے کے دشمنوں کے ساتھ وہ دوست بن سکتے ہیں لیکن آپس میں نظریہ کے اشتراک کے باوجود ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکتے۔اس کے پس منظر میں بھی یہی نسلی امتیاز کا تصور ہے جو کار فرما ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ روس اگر چہ دنیا میں