خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 803 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 803

خطبات طاہر جلد۵ 803 خطبه جمعه ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء اسراف سے بھی کام لیا ہو گا۔یہ مضمون ذنوب کے مضمون سے زیادہ گہر از یادہ وسعت رکھنے والا مضمون ہے۔وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا اے خدا ہمیں ثبات قدم عطا فرما وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِيْنَ اور انکار کرنے والوں پر ہمیں فتح نصیب فرما۔یہ ظاہری معنی اس طرح بنیں گے۔اگر روحانی معنوں کا جہاد مراد ہے تو خواہ وہ تربیت کا ہو یا تبلیغ کا ہو یہاں خصوصیت سے تبلیغ کا جہاد پیشِ نظر ہے کیونکہ وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِيْنَ فرمایا وَانْصُرْنَا عَلَى القوم الفاسقین نہیں فرمایا تو خصوصیت سے یہ آیت تبلیغ کے مضمون پر بحث کر رہی ہے اور یہاں اگر یہ معنی لیں گے تو اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا کا یہ مطلب بنے گا کہ اے خدا ! ہم تو لوگوں کو گناہوں سے پاک کرنے کا عزم لے کر نکلے ہیں، یہ ارادہ لے کر اُٹھے ہیں کہ بدسوسائٹی کو گناہوں سے پاک کر دیں گے لیکن اپنے حال پر جب نظر کرتے ہیں تو ہم تو خود گناہگار ہیں ، ہم سے کئی غلطیاں ہوئی ہیں،اس لئے تو ہمارے گناہوں کو بخش دے تا کہ صاف سختی لے کر ہم دنیا کو نیکیوں کی طرف بلانے والے ہوں۔ہم اس غرض سے اس ارادے سے باہر نکل رہے ہیں کہ دنیا کو اپنے نفوس پر اپنی ذاتی جانوں پر بھی اور اپنے ماحول میں دوسروں کی جانوں پر بھی اسراف سے باز رکھیں ، زیادتیوں سے روکیں ،حق تلفیوں سے منع کریں لیکن کوئی بعید نہیں کہ ہم خود اس کا شکار ہو چکے ہوں۔ہم نے اپنے نفس کی بھی حق تلفی کی ہو اور اپنے نفوس ، اپنے ماحول میں بسنے والوں ، اپنے اقرباء، اپنے عزیزوں، اپنے دوستوں اپنے سوشل تعلقات رکھنے والوں کے ساتھ زیادتی کی ہو، ان کے حقوق مارے ہوں۔تو اے خدا ہم تجھ سے معافی طلب کرتے ہیں اور عاجزانہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے اسراف کو بھی معاف فرمادے تا کہ صاف دل اور صاف ضمیر کے ساتھ ہم تبلیغ کر سکیں۔جہاں یہ دعا اس لحاظ سے برمحل ہے وہاں انکساری کا بھی عظیم سبق دیتی ہے۔تبلیغ کرنے والے اس زعم کے ساتھ نہیں جاتے کہ دنیا ساری بد ہے اور ہم پاک ہیں۔تبلیغ کرنے والے کسی رعونت اور تکبر اور انانیت کا شکار ہو کر باہر نہیں نکلتے بلکہ غرور اور تکبر اور انانیت کے شکاروں کو ان کے ظلموں سے باز رکھنے کے لئے نکلتے ہیں اور خود یہ اقرار کر کے جاتے ہیں کہ ہم خود بھی گناہگار اور خود بھی کمزور ہیں مگر خلوص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ہم دنیا کو ان بیماریوں سے پاک کرنے کا ارادہ لے کر نکلے ہیں۔ان کے طریق تبلیغ میں ، ان کے رجحان میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا