خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 804 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 804

خطبات طاہر جلد۵ 804 خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء ہوتی ہے اس دعا کے نتیجہ میں ، رعونت مٹ کر ایک خاک میں بچھا ہوا انکسار بن جاتی ہے اور ایک ایسی عاجزی سکھاتی ہے یہ دعا جس کے بعد انسان کا ذاتی نفس کا بھروسہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا بلکہ کلیۂ معاملہ خدا کے سپرد ہو جاتا ہے۔اسی لئے پھر فرمایا کہ یہ دعا کرووَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا۔کیونکہ تمہیں ثبات قدم نصیب ہی نہیں ہو سکتا تبلیغ کے مضمون میں اگر گناہ گار ہو اور اسراف کرنے والے ہو۔چونکہ تم تسلیم کرتے ہو کہ تم سے یہ کمزوریاں سرزد ہوئی ہوں گی یا ہو چکی ہیں واقعہ اس لئے اب خدا سے دعا مانگو کہ وہ تمہیں ثبات قدم عطا فرمائے ورنہ اپنی طاقت کے بھروسہ پر اپنی نیکیوں کے بل بوتے پر تمہیں ہرگز ثبات قدم نصیب نہیں ہو سکتا کیونکہ تم کمزوریوں کا پتلا ہوا اور کمزوریوں سے پاک نہیں ہو۔وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِینَ اور اے خدا! تو ہی ہے جو ہمیں انکار کرنے والوں پر فتح اور نصرت عطا فرمائے۔و انصرنا میں فتح کا مضمون داخل ہے ویسے تو اس کا معنی صرف یہ ہے کہ ہماری مددفرمالیکن جس کی خدا مد دکرے اس کے لئے فتح تو ایک لونڈی کی طرح اس کے حضور چلی آتی ہے اس لئے نصرت الہی کے ساتھ فتح و ظفر کا مضمون پیوستہ ہے، اس طرح بندھا ہوا ہے کہ اس کو الگ کیا ہی نہیں جاسکتا۔اس دعا میں ثبات قدم کا لفظ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اور اس کے مضامین میں جو وسعت ہے اس کی طرف میں خصوصیت سے توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ثبات قدم سے عموماً صرف اتنا مفہوم سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے پاؤں لڑکھڑائیں نہیں گویا کہ ایک ظاہری لڑائی کا نقشہ ہے کسی کے پاؤں ڈگمگا جائیں یا بھاگنے کو دل چاہنے لگے اس وقت انسان یہ سمجھتا ہے کہ ثبات قدم کی نفی ہو رہی ہے۔یہ درست ہے یہ معنی غلط نہیں لیکن ثبات قدم کا مضمون ایک وسیع تر مضمون ہے۔اگر اس کے سارے پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر یہ دعا کی جائے تو یہ دعا زیادہ کامل، زیادہ خوبصورت اور زیادہ نفع بخش بن سکتی ہے۔یہ دعا ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا جو مضمون اپنے اندر رکھتی ہے اس کا تعلق باب تفعیل ہے ثَبَّتَ يُثَبِّتُ تَشِياً جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک چیز کو دوسرے میں جاری کر دینا۔تو اس کا معنی یہ بنے گا کہ اے خدا! ثبت ثبوت ثباتة ، ثبات جتنے بھی مادے ہیں جن کا تعلق اس تثبیت سے ہے ان سارے مادوں کا مضمون ہماری ذات میں ہمارے داخل فرمادے اور ہمارے اقدام کو وہ سب چیزیں بخش جن کا تعلق اس لفظ کے مادے سے ہے۔