خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 802 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 802

خطبات طاہر جلد۵ 802 خطبه جمعه ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء میں نے کہا ہے عموماً توجہ نہیں جاتی وہ یہ ہیں کہ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا سے آغاز ہوا ہے دعا کا جو جہاد پر نکلتے وقت کی دعا ہے ثَبِّتُ أَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ جو آخرى پکار ہے اس دعا میں اس سے پتہ چلا کہ اس دعا کا ایک گہرا تعلق اور براہ راست تعلق جہاد سے ہے خواہ کسی نوع کا جہاد ہو۔اُس جہاد پر نکلتے وقت پہلی دعا یہ سکھائی رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا اے خدا ہمارے گناہ بخش دے۔یہ جہاد دو قسم کا ہو سکتا ہے۔ایک وہ جہاد کی قسم ہے جسے قتال کہتے ہیں ، جب دشمن پہل کرے تلوار کے ذریعے کسی کے دین کو دبانے کی کوشش کی۔جب دشمن تحدی سے کام لینے کا فیصلہ کر لے اور زیادتی سے شروع کر چکا ہو، اس وقت مومن جو دفاعی لڑائی کرتا ہے اس کا نام بھی جہاد ہے۔پس اگر یہاں جہاد کا مضمون ظاہری لیا جائے یعنی قبال اور وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ کی دعا سے یہ مفہوم لیا جائے کہ ہمیں اس قتال ، اس تلوار کی جنگ میں ظالم پر فتح نصیب فرما جو ظالم بھی ہے اور مغرور بھی ہے اور ہم سے بہت زیادہ طاقتور ہے کیونکہ کمزور دشمن پہل نہیں کیا کرتا اور جہاد کی شرط یہ ہے کہ دشمن نے پہل کی ہو، جس کا مطلب یہ ہے کہ ظالم بھی ہے اور طاقتور بھی ہے۔بڑی جسارت کر دکھاتا ہے اور بغیر وجہ کے اس یقین کے ساتھ حملہ آور ہوا ہے کہ اس کے خلاف جوابی کارروائی موثر ہو ہی نہیں سکتی۔اس موقع پر رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا کا یہ معنی ہوگا کہ اے خدا! ہم تو جان کا نذرانہ لے کر نکلے ہیں اور اس سابقہ زندگی میں ہم سے بڑی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی پھر بخشش طلب کرنے کا وقت ہمیں میسر نہیں آسکتا اس لئے ہماری ان قربانیوں کو قبول فرمالے اور ہمارے گناہوں سے صرف نظر فرما کیونکہ اب تو بقیہ زندگی ہم تیرے سپر داس طرح کر بیٹھے ہیں کہ گویا اپنے ہاتھ سے دے دی۔تو اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا سے آغاز کرنا مومن کے جہاد کے عظیم خلوص پر بھی دلالت کرتا ہے اس دعا کے الفاظ بتاتے ہیں کہ جو بھی خدا کی راہ میں جہاد کرنے نکلتے ہیں اپنا کچھ رہنے نہیں دیتے اور اس ارادے سے نکلتے ہیں کہ سب کچھ قربان کر کے لوٹیں گے یا نہیں لوٹیں گے۔لوٹیں گے تو خدا کے حضوران معنوں میں لوٹیں گے کہ لوٹیں گے تو خدا کے حضور لوٹیں گے۔۔پس ذُنُوبَنَا سے استغفار یہ ایک بہت ہی برمحل بات ہے جو اس دعا میں ہمیں سکھائی گئی۔وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا یہی مضمون ہے جو اور آگے بڑھ جاتا ہے ہم نے اپنے معاملات میں