خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 786
خطبات طاہر جلد ۵ 786 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء ہی رخ ہے اس کوشش کا یعنی اسلام کے دشمن اسلام پر عمل کرنے سے روک رہے تھے اور اسلام کے حامی اس راہ میں قربانیاں دے رہے تھے۔پس اُس دن کے بعد یا اُس دور کے بعد آج دنیا نے یہ دور دوبارہ دیکھا ہے لیکن دیکھا عجیب طریق سے ہے کہ اسلام کو نافذ کرنے کے ارادہ لے کر جولوگ تلوار ہاتھ میں لے کر اٹھے تھے یا ارادہ تو کچھ اور لے کر اٹھے تھے لیکن دنیا کو یہ بتایا کہ ہمارے طاقت کے سرچشموں پر قابض ہونے کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ہم ثابت کر دیں کہ زبر دستی اسلام کسی دنیا کے ملک میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔یہ تھا ان کا ادعا خواہ ارادہ ابتدا میں کچھ اور ہی ہو یا نیتیں کچھ اور ہوں لیکن دعویٰ بہر حال یہی تھا اور ابھی تک یہی ہے۔سکیم اس کی ہمنصوبہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دوٹوک، دو نقطوں کا منصوبہ ہے کہ کچھ ملک کے باشندوں کو زبردستی اسلام پر عمل کروایا جائے کچھ ملک کے باشندوں سے اسلام پر عمل کرنے کا حق چھین لیا جائے اور انہیں عمل کرنے سے روک دیا جائے۔دونوں صورتوں میں یہ منصوبہ کلیہ ناکام ہو چکا ہے۔نہایت ذلیل اور خاسر و خائب ہو چکا ہے اور اس طرح ناکام ہوا ہے کہ عمل کروانے کا دعویٰ کرنے والے خود اقرار کر رہے ہیں کہ ہم ان تمام پہلوؤں میں بُری طرح ناکام ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی عقل نہیں کرتے۔اتنی عظیم الشان آیت ہے یہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ اتنی اس میں قوت ہے اتنی حشمت اور شوکت ہے، ایسی عظمت ہے اس آیت میں کہ کوہ ہمالہ سے ٹکرا کر تو کوئی قوم بچ سکتی ہے مگر اس آیت سے ٹکرا کر کوئی قوم نہیں بچ سکتی۔ہر طاقت جو اس آیت سے ٹکر لے گی وہ لازما چکنا چور ہو جائے گی۔یہ ایک ایسی ابدی سچائی ہے جو ہر زمانے میں دنیا کے ہر حصے میں عمل درآمد دکھاتی رہی ہے اور اس کے عمل کو کوئی دنیا کی طاقت روک نہیں سکتی۔اب میں آپ کے سامنے مثالیں دے کر معاملہ کھولتا ہوں۔ایک کوشش یہ ملک میں کی گئی کہ زبر دستی نمازیں پڑھائی جائیں۔اس کے لئے پہلے تو قانون یہ بنایا گیا کہ حکومت کے جو ملازمین ہیں ان کو ز بر دستی نماز پڑھائی جائے اور اس کے لئے کچھ وقت بڑھا دیا گیا ، چھٹی کا درمیان کا وقت، جس کو Lunch Hour کہتے تھے، اسے نماز کا گھنٹہ بنادیا گیا اور وقت زیادہ دے دیا گیا کیونکہ کھانے کے علاوہ نمازیں بھی پڑھنی تھیں۔چند دن کے اندر اندر سارے ملک کو اس اقدام کی شکست