خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 787 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 787

خطبات طاہر جلد ۵ 787 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء اس طرح دکھائی دینے لگی کہ ہر جگہ جہاں یہ گھنٹے کی چھٹی ہوتی تھی وہاں کھانے میں وقت بڑھا دیا گیا اور نماز کی طرف کوئی توجہ نہ ہوئی۔چند دن لوگ دوڑے مسجدوں کی طرف یا مصلے جو بنائے گئے تھے اس کے بعد جو پہلے طبعی خودہی نمازی تھے وہ باقی رہ گئے اور یہ عارضی زبردستی کے جو نمازی تھے واپس اپنے اپنے اپنے حالات پر لوٹ گئے۔پھر حکومت نے یہ کوشش کی کہ اس دائرہ کو بڑھا دیا جائے اور حکومت کے کارندوں پر حکم نافذ کرنا مشکل ہے اس لئے غریب عوام پر نافذ کرنا چاہئے۔حکومت کے کارندے تو صاحب حکومت ہوتے ہیں ان کو کس طرح زبر دستی حکومت کسی نیک اقدام پر مجبور کرسکتی ہے بیچاری لیکن عوام الناس دیہات میں بسنے والے وہ شاید زیادہ جلدی اس حکم کو قبول کر لیں۔چنانچہ قصبہ قصبہ بستی بستی محلہ محلہ نمازیں پڑھانے والے آدمی مقرر کئے گئے اور جہاں کہیں کوئی دوسرا نمازی نہیں ملتا تھا یعنی کوئی ایک بھی ایسا نمازی نہیں تھا جو دوسروں کو نمازیں پڑھا سکے وہاں احمدیوں کو مقرر کیا گیا۔جن کی نمازیں رو کی جارہی ہیں ان کو نماز پڑھانے پر مقرر کیا گیا اور حیرت انگیز اس میں اطلاعیں ملتی ہیں۔بہت سی جگہ احمدیوں نے کہا بھئی ہم تو احمدی ہیں اور ہمیں تو تم کہتے ہو کہ تمہیں نماز پڑھنے کا حق نہیں تو ہم دوسروں کو کس طرح نمازیں پڑھائیں گے۔تو انہوں نے کہا کہ ہمیں تو تم سے بہتر نماز پڑھانے والا کوئی ملتا ہی نہیں، اس لئے قطع نظر اس کے کہ حکومت کیا کہتی ہے ہم تو تمہیں ہی مقرر کریں گے۔چنانچہ احمدی داروغے غیر احمدیوں کو نماز پڑھانے پر مقرر کئے گئے۔لیکن بنیادی طور پر اصولاً یہ بات غلط تھی۔جبر کے ذریعہ دین نافذ نہیں کیا جا سکتا قرآن کریم یہ اعلان کر رہا تھا اور کوشش ہو رہی تھی کہ نہیں ہم جبر کے ذریعہ دین نافذ کر کے دکھائیں گے نا کام ہو گئے اور صرف ایک معمولی سی جھلکی ذہنوں میں باقی رہ گئی ہے ورنہ عملاً یہ نظام کلیۂ مفقو دو نابود ہو چکا ہے۔دوسری طرف احمدیوں کو ز بر دستی نماز سے روکنے کی کوشش کی گئی کیونکہ اسلام مکمل طور پر نافذ ہو ہی نہیں سکتا جب تک بعض لوگوں کا نمازوں سے روکا نہ جائے۔خلاصہ یہ نکلا کہ جو نمازیں نہیں پڑھتے ان کو پڑھائی جائیں اور جو پڑھتے ہیں ان کو نہ پڑھنے دی جائیں۔یہ ہے اسلام کا پیغام جو موجودہ حکمرانوں نے سمجھا اور نا کام ہو گئے۔اس طرح ناکام ہوئے کہ بکثرت ایسے احمدی جو پہلے نمازوں میں سستی دکھا جاتے تھے وہ نمازوں میں اور زیادہ مضبوط ہو گئے۔جو باجماعت نماز