خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 785
خطبات طاہر جلد ۵ 785 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء کر لو گے۔تو یہ ہے اس آیت کا اصل منطوق اور اس میں بڑی وسعت ہے۔یہ جو دوسرا پہلو ہے کہ جبر کے ذریعہ دین نافذ ہو ہی نہیں سکتا یا جبر کے ذریعہ دین چھینا جاہی نہیں سکتا۔زور لگا کر دیکھ لولا ز ما تم نا کام ہو گے کیونکہ وہ لوگ جو رُشد و ہدایت کور شد و ہدایت سمجھ کر پاگئے ہوں ، ان کا ہاتھ سچائی کے کڑے سے کاٹ کر الگ نہیں کیا جاسکتا۔اس دعوے کو جب ہم تاریخ پر اطلاق کر کے دیکھتے ہیں تو ساری انسانی تاریخ قرآن کریم کی اس آیت کی سچائی کی گواہ بن کر کھڑی نظر آتی ہے اور حالاتِ حاضرہ پر جب اس کو منطبق کر کے دیکھنا چاہتے ہیں تو انسان کی عصرِ حاضر کی تاریخ بھی کلیہ بلا استثناء اس آیت کے حق میں گواہی دیتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔پاکستان میں آج کل ایک یہی کوشش ہورہی ہے اور دونوں طریق پر کوشش ہو رہی ہے۔یعنی اگر چہ بحثوں میں تو صرف اتنا ہی ہے کہ زبر دستی دین اسلام کو نافذ کیا جاسکتا ہے یا نہیں اور یہ پہلو نہیں ہے کہ زبر دستی دین اسلام چھینا جا سکتا ہے کہ نہیں۔مگر واقعہ یہ دونوں کوششیں پاکستان میں اس وقت ہو رہی ہیں اور عصر حاضر کے جو واقعات ہیں یہ آئندہ زمانے میں ایک عجیب تاریخ بننے والے ہیں۔آپ اس تاریخی دور میں سے گذر رہے ہیں اور ساتھ چل کر زمانے کے ان باتوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں جنہیں آئندہ آنے والا مورخ بڑی محنت سے تلاش کر کے نکالے گا اور پھر ان واقعات پر مبنی بڑی بڑی کتابیں لکھی جائیں گی۔تاریخ کا ایک بہت اہم باب ہے جس میں سے ہم اس وقت گذر رہے ہیں۔پاکستان میں یہ دونوں کوششیں ہورہی ہیں اور فوجی اقتدار کے ذریعہ اور جبر کے ذریعہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کے ایک حصے کو لازماًز بر دستی اسلام پر عمل کروایا جائے گا، اور ایک حصے کو اسلام پر عمل کرنے سے روکا جائے گا یہ ہے اسلام کا نفاذ۔قطع نظر اس کے کہ ایسا احمقانہ حیرت انگیز اسلام کے نظام کا تصور کبھی چودہ صدیوں میں ایک موقع پر بھی دکھائی نہیں دے گا کہ بیک وقت یہ دوارا دے لے کر کوئی قوم یا کوئی حکومت اٹھی ہو کہ ہم اسلام اس طرح نافذ کریں گے اس دفعہ کہ بعض لوگوں سے زبر دستی اسلام پر عمل کروائیں گے اور بعض لوگوں کو ز بر دستی اسلام پر عمل کرنے سے روک دیں گے ٹکڑوں میں یہ واقعات آپ کو تاریخ میں ملتے ہیں مثلاً بعض مسلمان بادشاہوں کے دور میں زبر دستی عمل کی جھلکیاں نظر آتی ہیں لیکن زبر دستی روکنے کی جھلکی سوائے آنحضرت ﷺ کے زمانے کے اور کہیں دکھائی نہیں دے گی اور وہاں ہمیشہ ایک