خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 70

خطبات طاہر جلد۵ 70 خطبہ جمعہ ۱۷ جنوری ۱۹۸۶ء ہیں۔اس جلوے کی تمنا کیوں نہیں کرتے جو ہر روز آپ کی زندگیوں میں ظاہر ہو سکتا ہے اور آپ کو ایک عظیم الشان خلق آخر عطا کر سکتا ہے۔وہ اقتداری جلوے ہیں جو خدا کی تائید اور پیار اور محبت اور نصرت کے جلوے ہیں جو اس کثرت سے حضور اکرم ﷺ کی زندگی میں ظاہر ہوئے ہیں کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ دعوے جتنے بھی کوئی کرے کبھی بھی کوئی نبی ایسا تاریخ عالم میں نہیں مل سکتا جس کی زندگی میں اقتداری نشانوں کے طور پر اس کا دسواں حصہ بھی کہیں ظاہر ہوا ہو۔حضرت مسیح کے سارے معجزے آپ اکٹھے کرلیں جو حقیقہ واقعہ ظاہر ہوئے جو مبالغہ کے سوا ہیں ان کی کوئی حیثیت ان معجزات کے سامنے نہیں جو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ظاہر ہوئے ، آپ کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے اور ہزار ہا لوگوں نے وہ معجزے دیکھے۔حضرت مسیح کے معجزوں کے گواہ چند حواری ہیں اوران کی روایتیں ہی ہیں جن پر ساری بناء کی گئی۔آنحضرت ﷺ کے معجزات کے گواہ ہزار ہا ایسے صحابہ ہیں جو معروف ہیں جن کے متعلق قطعی طور پر ہمیں ثابت ہے کہ ان کی زندگی مجسم سچائی تھی اور جھوٹ سے ان کا کوئی علاقہ نہیں تھا۔اس کثرت سے اتنی مضبوط روایتیں محفوظ چلی آرہی ہیں کہ ان میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔پس جماعت کو چاہئے کہ خدائے ذوالا قتدار سے اس رنگ میں تعلق پیدا کریں کہ خدا کا اقتدار ان کے اندر ظاہر ہو۔اور یہی وہ تعلیم ہے جو قرآن کریم ہمیں دیتا ہے صِبْغَةَ اللَّهِ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةَ (البقرہ:۱۳۹) کہ اے محمد مصطفی علی نے اپنے غلاموں کو خدا کے رنگ کی طرف بلاؤ۔خدا کا رنگ محض دیکھ کر لطف اٹھانے کے لئے نہیں بلکہ خدا کا رنگ اپنے وجود میں جاری کرنے کے لئے ہے۔اس لئے خدا کی صفات کا جب ذکر چلتا ہے تو ہمیشہ ساتھ یہ دعا کرتے رہیں سنتے ہوئے کہ اللہ اپنی صفات کا ہمیں بھی اس رنگ میں جلوہ دکھائے کہ ہم دنیا کے لئے خدا نما ہو جائیں اور خدا کے جلوے دنیا کو دکھانے والے بن جائیں۔آج کا دور اس کے لئے ایک بہت ہی اہمیت رکھنے والا دور ہے۔آج بکثرت جماعت کے دل دکھے ہوئے ہیں۔آج بکثرت جماعت کو اس لئے مطعون اور ذلیل کیا جارہا ہے کہ وہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والی جماعت ہے۔محض اللہ اگر آج دنیا میں کسی کو دکھ دیا جا رہا ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہے۔پس اس دکھوں کے زمانے سے ایسا خزانہ پا جائیں جو ایک نہ ختم ہونے