خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 707
خطبات طاہر جلد۵ 707 خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۶ء مغربی جرمنی یا یورپ یا دیگر ممالک میں ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔گندگی یہاں بھی ہے اور وہاں بھی ہے، جرائم یہاں بھی ہیں اور وہاں بھی ہیں۔لیکن اگر آپ موازنہ کر کے دیکھیں تو وہاں کے جرائم کئی صورتوں میں بہت زیادہ بھیانک ہیں۔مثلاً بچوں پر جو مظالم بعض مسلمان کہلانے والے ممالک میں ہورہے ہیں اس کا عشر عشیر بھی آپ کو یہاں دکھائی نہیں دے گا۔لمبے عرصہ سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جو قبائل ہیں وہ بچوں کی تجارت کرتے ہیں اور کرتے چلے جارہے ہیں۔بچے یا اغوا کر لیتے ہیں یا خرید لیتے ہیں اور ان سے ظالمانہ کام لیتے ہیں اپنے Labour Camps میں اور دیگر جرائم کا بھی ان کو نشانہ بناتے ہیں۔کہ نہایت ہولناک زندگی ہے ان معصوم بچوں کی۔جو آج کی بات نہیں بیسیوں سال سے پاکستان اور ہندوستان کے لوگ برداشت کرتے چلے جارہے ہیں اور کوئی توجہ اس طرف نہیں ہو رہی۔پہلے تو ہندوستان تھا، جب ہندوستان ختم ہوا اور پاکستان ایک عالم اسلام کا ایک نمائندہ بن کر ابھرا اور اسلام کی سب سے زیادہ کثیر التعداد سلطنت کے طور پر ابھرا۔سب سے زیادہ تعداد میں مسلمان ایک وقت میں کہا جاتا ہے کہ یہیں آباد تھے۔اب شاید یہ توازن بدل چکا ہو مگر بہر حال ابھی بھی سب سے زیادہ کثیر تعداد میں مسلمان جس ملک میں آباد ہیں ان میں ایک پاکستان بھی ہے۔لیکن وہ جرائم نہ صرف یہ کہ جاری ہیں بلکہ بڑھتے چلے جارہے ہیں۔یہاں تک بعض علاقے پاکستان میں موجود ہیں بدقسمتی سے کہ جہاں بچپن سے بچوں کے اعضا کو ایسے شکنجوں میں جکڑ دیا جاتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں وہ اعضا ٹیڑھے رہیں اور نہایت مکر وہ شکل اختیار کر جائیں تا کہ پھر ان کو ریڑھیوں پر ڈال کر بھیک مانگنے کا ذریعہ بنایا جائے اور یہ واقعہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، گزر رہا ہے سب کے سامنے لیکن کوئی پرواہ نہیں۔تو جرائم یہاں بھی ہیں اور وہاں بھی ہیں۔لیکن بعض صورتوں میں انتہائی بھیا نک جرائم ہیں جو وہاں رونما ہورہے ہیں اور پرورش پارہے ہیں۔اس تفصیل میں جانے کا موقع نہیں نہ میرا مقصد یہ ہے کہ اس پہلو سے تفصیلی موازنہ کروں۔میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تقویٰ کی آنکھ سے دیکھا جائے حقائق کی آنکھ سے دیکھا جائے تو جو امن ساری دنیا میں برباد ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے وہ اسلامی دنیا میں بھی تو برباد ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔جو سینے سکینت سے یہاں خالی ہیں ویسے ہی سینے وہاں بھی خالی ، جس طرح عائلی