خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 706
خطبات طاہر جلد۵ 706 خطبه جمعه ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء دکھائی دے گی۔کیا اسلام بین الاقوامی تعلقات میں ایسے مناظر پیش کر رہا ہے کہ دنیا کسی حد تک معقولیت کے ساتھ یہ امید باندھ بیٹھے اسلام سے کہ اگر اسلام کو ترقی ہوئی تو عالمی امن پیدا ہوگا۔اگر قف نہیں ہے تو پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے کہ اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ۔کیونکہ دنیا میں ہمیں تو پھر یہ دکھائی دے گا کہ نہ اسلام قبول ہوا نہ غیر اسلام قبول ہوا۔نہ اسلام دنیا کو وہ امن دے سکا جس کا دعویٰ کر رہا تھا نہ غیر اسلامی طاقتیں وہ امن دے سکیں۔تو الَّا الَّذِينَ آمَنُوا کا پھر کیا مطلب ہے۔پھر تو یہ کہ دنیا چاہئے تھا اِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ سارا انسان گھاٹے میں چلا گیا اور کوئی الا و لا نہیں، کوئی بھی استثناء نہیں، کلیۂ سارا عالم ہلاک ہونے والا ہے۔لیکن یہ تو قرآن کریم نہیں فرما رہا بلکہ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ کا ذکر فرماتا ہے۔لیکن تعجب کی بات ہے یہاں الا الَّذِينَ أَسْلِمُوا نہیں کہہ رہا، یہاں یہ نہیں فرمایا کہ الا المسلمون کہ وہ لوگ جو مسلمان ہوں گے وہ بچ جائیں گے بلکہ از سر نو ایمان کا ایک نیا تازہ نقشہ کھینچ رہا ہے۔إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور شرط باندھ دی ہے کہ وَعَمِلُوا الصّلِحُتِ اور نیک اعمال کرنے والے صرف وہی ہیں جو بچیں گے اور باقی سب ہلاک ہو جائیں گے۔پس عالم اسلام میں وہ چیز کیوں دکھائی نہیں دے رہی بلکہ اس کے برعکس چیز کیوں دکھائی دے رہی ہے؟ اس مضمون پر نسبتا کچھ زیادہ غور کی ضرورت ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام میں اگر یہی اسلام ہے جس اسلام کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے تو پھر عالم اسلام میں اس اسلام کی صداقت کے کوئی آثار ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔ہر انسان جو تعصبات سے بالا ہو کر غیر اسلام کا مقابلہ آج کے اسلام سے کرے اور آج کی اسلامی دنیا کا موازنہ غیر اسلامی دنیا سے کرے اگر اس میں کوئی ادنی سا بھی تقوی پایا جاتا ہے ، اگر ادنی سی بھی سچائی پائی جاتی ہے تو وہ یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ بہت سی صورتوں میں اسلام میں ان صفات کا زیادہ فقدان ہے جو لفظ اسلام میں بیان کی گئی ہیں۔بدامنی وہاں بھی ہے جیسی یہاں ہے مگر جیسی لاقانونیت آج اکثر مسلمان ممالک میں دکھائی دیتی ہے۔ویسی لاقانونیت مغربی دنیا میں ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔جیسی رشوت ستانی بدقسمتی سے ان مسلمان ممالک کے اندر ہمیں دکھائی دے رہی ہے ویسی رشوت ستانی