خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 684 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 684

خطبات طاہر جلد۵ 684 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء ہے اور ان کے گھروں میں قرآن کریم سے تعلق اور پیار کی باتیں نہیں ہیں بلکہ اگر ہے تو مغربی موسیقی ہوگی ، اگر ہے توٹی وی کے پروگرام ہوں گے یاد نیا کی تعلیم کی باتیں ہوں گی۔ماں باپ کے چہروں سے یہ بات ظاہر نہیں ہوتی تھی لیکن اولاد کے چہروں سے یہ بات ظاہر ہو جاتی تھی کیونکہ ماں باپ کی تربیت اور قسم کے ماں باپ نے کی ہوئی تھی اور اس اولاد کی تربیت وہاں اور قسم کے ماحول نے کی ہے اور ماں باپ نے اس ماحول سے بچانے میں غفلت کی اور اپنے معاشرہ کو خود اپنے گھروں میں راسخ نہیں کر سکے، اپنے گھروں میں رائج نہیں کر سکے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر چہ وہ بھی مغربی رو میں بہہ رہے ہیں لیکن ان پر پرانی تربیت کے آثار ابھی تک باقی ہیں اور جو بچے ہیں ان کے چہرے بتارہے ہیں کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہو کر کسی اور سمت میں چل رہے ہیں۔یہ ہے وہ نہایت ہی خطرناک بات جس کی وجہ سے میرا دل وہاں بہت گڑھا اور ایک موقع پر مسجد میں جب میں نے دیکھا کہ بعض بچوں نے بہت ہی زیادہ ہلڑ مچایا اور باقیوں کی بھی نماز خراب کی تو میں نے بڑی شدت کے ساتھ اس تکلیف کا جماعت کے سامنے اظہار کیا۔یہ واقعہ ہر جگہ نہیں ہوا صرف ایک ہی جگہ ہوا ہے۔بعد میں اس جماعت کی طرف سے مجھے چھٹیاں آنی شروع ہوئیں۔مردوزن کے انتہائی تکلیف میں مبتلا ہوکر معذرت کے خط آنے شروع ہوئے۔میں نے ان کو جوا با بتایا یا جن سے بھی میری بات ہوئی کہ اس میں میری معافی کا سوال ہی کوئی نہیں ہے، تم اس ناراضگی کو سمجھے ہی نہیں ، یہ اس قسم کا معاملہ نہیں ہے کہ تم نے معافی مانگ لی ، میں نے کہا معاف ہو گیا اور معاملہ ختم ہو گیا۔اس تجربے سے ایک بہت ہی دردناک اور تکلیف دہ تصویر میرے سامنے ابھری ہے جو سالہا سال کے ماضی سے تعلق رکھتی ہے۔ایسے گھر میری آنکھوں کے سامنے آئے ہیں جہاں نہ نمازیں ہوتی ہیں اور نہ تلاوتوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔وہ جو دین کا رخ ہے، دین کا پیار ہے وہ ان گھروں میں رچا بسا نہیں اور بچے اس طرح پرورش پا رہے ہیں جیسے بے چھت کے ہوں اور ان کے اوپر کوئی امن کا سایہ نہیں ہے۔لازما وہ بچے پیدا آپ کر رہے ہیں اور وہ بن کسی اور کے رہے ہیں۔اس انتہائی تکلیف دہ ماضی کا یہ علاج تو نہیں ہے کہ آپ مجھ سے معافی مانگ لیں اور میں کہوں کہ اچھا الحمد للہ معافی ہوگئی اور ہم دونوں مصافحہ کر لیں یا گلے لگ جائیں۔یہ تو اس کا نہایت ہی بچگانہ حل ہے۔اس کی معافی تو تلافی مافات کے ذریعہ ہو سکتی ہے۔اس کی معافی تو