خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 685
خطبات طاہر جلد۵ 685 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء خدا سے مانگنی پڑے گی اعمال میں تبدیلی کے ذریعہ، ہر گھر میں ایک پاکیزہ ماحول قائم کر کے اس کی تلافی ہو سکتی ہے وہی اس کی کچی معافی ہوگی۔کیا اس دور میں جو ہم نے حسنہ سے غیروں کا مقابلہ کرنا ہے اس میں سب سے زیادہ لڑائی کا میدان اپنی آئندہ نسلوں کا میدان چن لیں؟ اور یہ فیصلہ کر لیں کہ یہ مقابلہ بداخلاقیوں کے ذریعہ، بدکلامیوں کے ذریعہ، گندے ناچ ناچ کر حق پھیلانے کی کوششوں کے ذریعہ، بھنگڑے ڈال ڈال کر مذہبی فتح حاصل کرنے کی کوشش کے ذریعہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ان کے مزاج بگاڑ رہے ہیں ان کے اخلاق بگاڑ رہے ہیں ، ان کو دین کا ایک ایسا غلط پیغام دے رہے ہیں کہ جس کے بعد ہمیشہ وہ لادینی میں پرورش پائیں گے، اُن کو پتہ ہی نہیں کہ دین ہوتا کیا ہے۔اس کا جواب آپ یہ دیں کہ اپنی آئندہ نسلوں کو سنبھالیں اور ان کو ایساد بیندار بنادیں اور ایسے اعلیٰ اخلاق عطا کریں کہ ان کی آئندہ نسلوں اور آپ کی آئندہ نسلوں کے فاصلے اس طرح بڑھتے چلے جائیں کہ گویا آپس میں کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ایک حضرت محمد مصطفی ﷺ کی جانب چلنے والی نسل ہو اور ایک پیٹھ دکھا کر تمام غیر اسلامی قدروں کی طرف بھاگنے والی نسل ہو۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا چاہیں کہ ان کے ساتھ ایسا ہو جائے ، ہرگز نہیں یہ ہمارا نقصان ہے۔میرا مطلب ہے کہ ان کی حرکتیں اپنی اولاد کو قتل کر رہی ہیں۔ان کی حرکتیں یہ نقشہ کھینچ رہی ہیں جو بہت بھیانک ہے۔آپ اپنے گھروں میں اس کا بر عکس نقشہ کھینچیں۔اپنی اولادوں کے ساتھ بالکل برعکس معاملہ کریں۔ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ پر عمل درآمد کرنے کا ایک یہ طریق ہے۔پس اس کو آئندہ کے لئے اپنے لئے ایک خصوصی جہاد بنالیں۔اب آپ یہ سوچیں گے کہ بظاہر اس کا فوری طور پر ہمارے اس مقابلہ سے تعلق نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ میدان ہے جس میں ہم نے فتح حاصل کرنی ہے یا شکست حاصل کرنی ہے، اسی میدان میں یہ بازی ہاری جائے گی یا جیتی جائے گی۔ہم مذہبی اقدار کو لے کر اٹھے ہیں، ہم سچائی کو لے کر اٹھے ہیں، ہم اس اسلام کو لے کر اٹھے صلى الله ہیں جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کا اسلام ہے۔عددی غلبہ اگر آئے بعد میں اور جیسا کہ آئے گا تو ہوسکتا ہے کہ ہماری بعد کی نسلیں اس عددی غلبے کو دیکھیں لیکن ایک غلبہ جو بہت زیادہ قیمت رکھتا ہے، جو بہت زیادہ قدر رکھتا ہے۔در حقیقت جس غلبہ کی خاطر مذہبی قو میں اپنی تمام جانوں کو مٹا دینے کے لئے تیار ہو جایا کرتی ہیں، اپنے اموال کو فدا کرنے کے لئے تیار ہو جایا کرتی ہیں وہ روحانیت کا غلبہ ہے، وہ