خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 683 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 683

خطبات طاہر جلد۵ 683 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء اس لئے جب میں یہ کہتا ہوں کہ شرک کا مقابلہ توحید سے کریں وہ آپ کو مشرک بنانا چاہتے ہیں آپ زیادہ موحد بن جائیں تو صرف یہ مراد نہیں ہے کہ کلمہ کا بیج لگا کر اس کے لئے قربانیاں دیں۔صرف ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ جہاں کلمہ سے روکا جارہا ہے وہاں بلند آواز میں کلمہ پڑھیں اور بلالی سنتوں کو زندہ کریں بلکہ مراد یہ ہے کہ کلمے کے اوپر غور کریں، اس سے زیادہ پیار کریں، اس کے مضمون کو اپنے نفس پر جاری کریں اور توحید کے نئے نئے سبق سیکھیں اور شرک کی ہر قسم سے بیزار ہو جائیں اور شرک کے ہر پہلو کا دفاع کریں اور اپنے دامن کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کر دیں۔یہ ایک بڑا عظیم جہاد ہے جس میں اگر آپ مصروف ہو جائیں تو ادفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کے مضمون کو سمجھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہوں گے۔محمد مصطفی ﷺ کو آپ سے چھینا جا رہا ہے، محمد مصطفی علیہ سے زیادہ چھٹنے کی ضرورت ہے۔اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا یہ تقاضا ہے اور زیادہ پیار کریں اور زیادہ محبت کریں اور زیادہ عشق کریں اور زیادہ چمٹ جائیں آپ کے حسن سیرت کے ساتھ اور اسے اپنے وجود میں اس طرح سمو لیں کہ وہ آپ کی فطرت ثانیہ بن جائے۔یہ ایک بہت ہی عظیم الشان مضمون ہے جو قرآن کریم کی اس آیت نے ہمیں سکھا دیا اور اسی کا نام ہے وہ اعمال جو باقی رہنے والے ہیں ، جو وزن دار ہیں وہ ہتھیار جن میں قو تیں پائی جاتی ہیں۔یہ تو میں جوان ہتھیاروں سے لیس ہوں مذہبی جنگوں میں کبھی ہارا نہیں کرتیں ،لا ز مافتح یاب ہوا کرتی ہیں۔اس پہلو سے میں ایک خاص امر کی طرف مزید توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جب میں نے کینیڈا کا دورہ کیا تو جہاں بہت سے خوش کن پہلو بھی نظر آئے جماعت میں بیداری کے آثار، ان کا رابطہ، ان کا اسلام کو غیروں تک پہنچانے کا نہ صرف عزم صمیم بلکہ دن بدن زیادہ منہمک ہوتے چلے جانا اور ماحول کو متاثر کرتے چلے جانا یہ سارے پہلو ایسے تھے جن سے بہت خوشی ہوئی۔لیکن ایک پہلو بعض جگہ کمزوری کا بھی تھا اور اس سے طبیعت میں نہ صرف یہ کہ پریشانی ہوئی بلکہ اس پر میں نے سوچا کہ ساری جماعت کو مطلع کرنا چاہئے کہ اس پہلو کی طرف خصوصیت سے وہ لوگ توجہ دیں جو مغربی معاشرہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔بعض بچے جو ملاقات کے وقت سامنے آتے تھے ان کی بول چال سے،ان کی طرز سے ایک بات صاف معلوم ہو جاتی تھی کہ ان کے گھروں میں عبادتوں کا ماحول نہیں