خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 682
خطبات طاہر جلد۵ 682 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو یقیناً جماعت احمد یہ نظریاتی لحاظ سے بیچ پر قائم ہے۔لیکن یہاں صرف اس کی بحث نہیں ہو رہی، قرآن کریم یہ فرمارہا ہے کہ تمہارا مقابلہ ہورہا ہے ،شدت کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے ، دشمن نے بد ہتھیار اٹھائے ہیں اس پر تم نے کیا کرنا ہے۔اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا مطلب ہے کہ اپنا دفاع کرو کسی بد ہتھیار سے اسی نوعیت کا بیچنے والا نیک ہتھیار اٹھا کر۔اگر جھوٹ کے ذریعہ حملہ ہوا ہے تو لازماً سچائی سے اس کا مقابلہ ہوگا۔سچائی میں آگے بڑھنے سے مقابلہ ہوگا۔اگر بد کرداری سے حملہ کیا گیا ہے تو نیک کرداری اختیار کرنے کے ذریعہ مقابلہ ہوگا۔اگر گندی زبان کے ذریعہ حملہ کیا گیا ہے تو پاکیزہ زبان اختیار کرنے کے ذریعہ مقابلہ ہوگا۔اگر ہماری سوسائٹی میں لوگوں کو گند بولنے کی عادت ہے، مرد اپنے گھروں میں بھی غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں۔اپنی بیویوں پر اور اپنے بچوں پر یا مائیں بچوں کے والد کے متعلق استعمال کرتی ہیں یا اپنے بچوں کے لئے استعمال کرتی ہیں یا بچے ایک دوسرے کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور ان کو روک کوئی نہیں رہا تو قرآن کریم کی اس آیت کے مضمون کو آپ نے نظر انداز کر دیا ہے۔آپ پر بد کلامی سے حملہ ہورہا ہے اور بدکلامی کا جواب قرآن کریم نے محض خاموش رہنا نہیں بتایا اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اس کے برعکس جو ہتھیار ہے، اس کے مقابل کا ہتھیار ہے، اسے اختیار کرلو۔اپنی زبان کو زیادہ شائستہ بناؤ ، اپنے کلام کو پہلے سے زیادہ حسین بناؤ ، روز مرہ کی زندگی سے بدکلامیاں اور زشت روئی کے اظہار کوختم کرتے چلے جاؤ۔تمہارے کلام میں زیادہ نفاست ہونی چاہئے اور زیادہ پاکیزگی آجانی چاہئے اور اپنے گھروں میں اپنے بچوں کو اپنے بڑوں کو اس کی عادت ڈالو۔پھر وہ حملہ کرتے ہیں آپ سے قرآن کریم چھیننے کا ادعا لے کر تو بالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن سے زیادہ شدت کے ساتھ چمٹ جائیں۔وہ حملہ کرتے ہیں وہ آپ سے تو حید باری تعالیٰ چھینے کے لئے ، آپ کو اس کا جواب قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں یہ دینا پڑے گا کہ زیادہ موحد بن جائیں۔دنیا میں شرک کی جتنی بھی قسمیں ہیں کوشش کر کے اور تلاش کر کے اپنے آپ کو شرک کی ان تمام قسموں سے بچائیں اور اگر کوئی آلودگی نظر آئے تو اپنے آپ کو اس سے دھوئیں اور پاک کریں اور یہ جو مضمون ہے تو حید خالص کا یہ ایک لامتناہی مضمون ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ توحید خالص اور قرآنی اعمال کا سارا نظام ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔