خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 681 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 681

خطبات طاہر جلد۵ 681 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بد انجام سے بچائے۔اس ضمن میں اس مقابلہ کی فتح وشکست کے فیصلے پر غور کرتے ہوئے جب اس آیت پر میری نظر پڑی اور میں نے تفصیل سے اس مضمون پر غور کیا تو صرف یہی بات نہیں تھی جو میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ مجھے یقینی علم ہوا، پہلے سے زیادہ میرا ایمان اس بات پر قوی ہوا کہ لازماً جماعت احمدیہ جیتنے والی ہے اور ان کے ہتھیاروں کی کمزوری دن بدن زیادہ ظاہر ہوتی چلی جارہی ہے بلکہ ایک اور امر کی طرف میری توجہ مبذول ہوئی اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم اس مقابلہ کی مزید تفصیل بھی بیان کرتا ہے کہ جب بدی سے حملہ ہورہا ہو تو مومن کو کیا کرنا چاہئے۔چنانچہ ان ذرائع کو خوب اچھی طرح نگاہ کے سامنے رکھ کر ہمیں اختیار کرنا چاہئے چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل : ١٣٦) پھر فرماتا ہے: اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ (المومنون : ۹۷) کہ جب بھی تم مقابلہ کرو تو بدی کا مقابلہ بدی سے نہیں کرنا۔اگر غلطی سے تم نے یہ سمجھ لیا کہ ان کے ہتھیاروں سے ان کو شکست دو تو لا ز ما تم اس میں مار کھا جاؤ گے کیونکہ بدی سے بدی کا مقابلہ کرنے کی تمہارے اندر صلاحیت ہی موجود نہیں، یہ تو ان کا جیتا ہوا میدان ہے اس میں اتنے قوی ہیں، اتنے غالب ہیں کہ تم چاہو بھی تو ناممکن ہے کہ تم بدی کے ساتھ ان کا مقابلہ کرسکو تمہیں خدا نے بدیوں کی استطاعت ہی عطا نہیں کی۔تمہارا مضبوط قلعہ حسنہ ہیں یعنی نیکیاں ، حسنات ہیں۔حسنات کو اختیار کرو اور ہر بد ہتھیار جسے وہ ہاتھ میں لیتے ہیں اس کے مقابل کا احسن ہتھیارا ٹھا لو۔جب اس آیت پر آپ غور کرتے ہیں تو بہت ہی دلچسپ اور تفصیلی ایک لائحہ عمل سامنے آجاتا ہے۔جب یہ آپ کے خلاف جھوٹ بولتے ہیں تو آپ کو تکلیف ہوتی ہے۔اس کا علاج قرآن کریم نے کیا فرمایا ہے کہ اس بدی کے برعکس نیکی یعنی سچائی۔اگر اس کے مقابل پر جماعت احمد یہ سچائی کی طرف متوجہ نہیں ہوتی اور پہلے سے زیادہ اپنے معاشرے کو سچ پر قائم نہیں کرتی اپنے بچوں کو سچ بولنے کی عادت نہیں ڈالتی تو مقابل پر جو کامیاب ہونے والا ہتھیار تھا اس کو تو آپ نے ہاتھوں میں اٹھایا نہیں۔پھر قرآن کریم کا یہ وعدہ آپ کے حق میں کیسے پورا ہوگا کہ یقیناً چونکہ تمہارے ہتھیار زیادہ وزن دار ہیں تم غالب آؤ گے۔