خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 662
خطبات طاہر جلد ۵ 662 خطبه جمعه ارا کتوبر ۱۹۸۶ء عملا بے خبر تھا ایک معمولی سا احساس تھا کہ یہاں کچھ اور قسم کے لوگ بھی رہتے ہیں لیکن اب یہ تعلق واضح ہو گیا ہے اور اس کثرت کے ساتھ جماعت احمدیہ نے اپنے آپ کو اپنے ماحول پر واضح کیا ہے اور احمدیت کا تعارف کروایا ہے کہ جس جس جگہ بھی میں گیا ہوں مجھے یہ احساس ہوا کہ جماعت احمدیہ کے متعلق ابتدائی تعارف کی ضرورت نہیں رہی۔یہاں تک کہ پریس میں بھی جماعت احمدیہ کے بارے میں خاصا تعارف موجود تھا۔وہاں کے مختلف حکام سے بھی رابطہ رہا Intelegencia سے بھی رابطہ رہا اور اکثر جگہ یہ دیکھ کر تعجب ہوتا تھا کہ وہ جماعت کے حالات کے متعلق باخبر ہیں اور گزشہ دو تین سال کے اندر اس پہلو سے جماعت نے بڑے منظم طور پر کام کو آگے بڑھایا۔یا ہے۔پس اب کینیڈا میں جماعت ایک معین ٹھوس وجود کے طور پر ابھر آئی ہے اور جماعت میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ ہم ان سے کٹ کر نہیں رہیں گے بلکہ ان کے ساتھ شامل ہوں گے، ان کے ساتھ تعلقات بڑھائیں گے اور سارا کینیڈا در اصل خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اسلام کے لئے ایک مستقبل کی سرزمین بننے والا ہے۔جہاں اسلامی نفوذ کو ہم نے معین طور پر بڑی کوشش محنت اور دعاؤں کے ساتھ پھیلاتے چلے جانا ہے۔پہلے یہ احساس اگر تھا بھی تو انفرادی طور پر پایا جا تا تھا مگر ساری جماعت کا یہ احساس کہ ہم نے تبلیغ کرنی ہے ، اسلام کا پیغام پہنچانا ہے، اس ملک کو آنحضرت کے لئے اور آپ کے دین کے لئے فتح کرنا ہے، یہ احساس اس شدت کے ساتھ پہلے مجھے محسوس نہیں ہوا تھا۔پس ان سب پہلوؤں سے جب میں غور کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کے شکر سے میرا دل بھر جاتا ہے کہ یہ دورہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی مطمئن کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کی طرف مزید متوجہ کرنے والا تھا۔اس دوران بعض مزید آئندہ جماعت کی ترقی کے پروگرام بھی ذہن میں ابھرے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے امور کی طرف نشاندہی بھی کروائی جن کے نتیجہ میں میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت کی ترقی پہلے سے بہت زیادہ تیز ہو جائے گی اور جن جن جگہوں پر ان امور کا ذکر ہوا ہے وہاں میں نے محسوس کیا کہ جماعت میں خود ایک بڑا ولولہ پایا جاتا ہے کہ ہمیں عمل کی نئی راہیں بتاؤ ہم آگے بڑھنے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ جن جن دوستوں سے بعض تجاویز کے متعلق مشورے طلب کئے گئے انہوں نے نہایت ہی محبت اور خلوص کے ساتھ نہ صرف مشورے دیئے بلکہ کام کی