خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 663

خطبات طاہر جلد۵ 663 خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۸۶ء ذمہ داریاں بھی قبول کیں۔اس لئے ان کی تفصیلات میں تو یہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس سفر کے دوران جماعت احمد یہ کینیڈا کے مستقبل کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی نئی تجاویز سوجھا ئیں اور ان پر عمل درآمد کرنے کے لئے غور اور فکر کی تو فیق عطا فرمائی اور عمل درآمد کرنے کے لئے انصار مہیا فرمائے جو پورے ولولے اور خلوص نیت کے ساتھ اس بات پر تیار ہیں کہ عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ جو جو راہیں ان کو دکھائی گئی ہیں ان میں بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔اس پہلو سے ساری دنیا کی جماعتوں کو جس جس تک میری یہ آواز پہنچے کینیڈا کو خصوصیت سے اپنی دعاؤں میں شامل کر لینا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کے مستقبل کے لئے کینیڈا ایک بہت ہی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ایک خاص نوعیت کا یہ ملک ہے جس کو شمالی امریکہ ہونے کے باوجود شمالی امریکہ کی بعض برائیوں سے بچنے کی توفیق ملی ہے اور شمالی امریکہ کی بہت سی ترقیات سے حصہ پانے کی بھی توفیق ملی ہے اگر چہ شمالی امریکہ میں جو United States of America ہے یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ، اس کے مقابل پر بہت پیچھے ہے لیکن اس کے اندر Potential موجود ہے۔خدا تعالیٰ نے غیر معمولی اس ملک کو ایسی صلاحیتیں بخشی ہیں کہ اگر ان سے استفادہ کیا جائے تو دنیاوی طاقت کے لحاظ سے بھی بہت ہی عظیم ملک بن سکتا ہے۔مذہبی طور پر اگر چہ اس ملک پر بھی مادہ پرستی کا اثر ہے لیکن ہر جگہ میں نے محسوس کیا کہ مادہ پرستی کا جو اثر امریکہ پر ہے اس کا عشر عشیر بھی ابھی کینیڈا پر نہیں اور ان کا مادہ پرستی کا اثر Skin Deep یعنی بڑا سطحی ہے۔ہر گفت و شنید کے نتیجہ میں میں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر مذہب کی لگن ہے اور جذبہ پایا جاتا ہے انسانیت کے لئے۔وہ چاہتے ہیں کہ ٹھوس اقدار پر زندگی بسر کریں اور اس کے لئے ایک بے چینی اور جستجو ہے۔اگر چہ دہریت بھی ہے اور جیسا کہ سارے مغربی ملکوں میں ہے لیکن دہریت میں بھی وہ شدت نہیں ہے بلکہ Agnosticism جس کو کہتے ہیں یعنی لاعلمی کی دہریت اس قسم کی دہریت, زیادہ ہے شرارت کی دہریت نہیں ہے اور بات کو جلدی قبول کرتے ہیں، بہت جلدی اثر لیتے ہیں اور دلیل کو سمجھتے ہیں، متحمل مزاج لوگ ہیں۔ان کی دہریت کے متعلق ایک چھوٹا سا دلچسپ واقعہ سناتا ہوں۔وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ٹیلی ویثرن کے پروگراموں میں بھی شرکت کی توفیق ملی۔ٹیلیویژن کا ایک پروگرام تقریباً پچاس