خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 635
خطبات طاہر جلد۵ 635 خطبه جمعه ۲۶ / تمبر ۱۹۸۶ء بھی گھڑتا ہے۔غیر کا اثر تو غیر کا اثر ہے سب سے زیادہ مؤثر ہستی دنیا میں انبیاء کی ہستی ہوتی ہے جو غیر معاشرے سے متاثر نہیں ہوتے اور معاشرے کو اپنے رنگ میں ڈھالتے ہیں، یہی نبوت کی سب سے بڑی شان ہے اور فرمایا یہ نبیوں کو بھی متاثر کرنے والا ہے۔تو آپ تو اس کے غلام ہیں اور ان معنوں کو سمجھتے ہوئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے غلام ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا اثر تمام غیر انبیاء پر پڑ سکتا ہے اور غیر انبیاء اپنے اثر کو آنحضرت ﷺ میں جاری نہیں کر سکتے۔تو آپ کا اثر سب قوموں پر پڑنا چاہئے اور کسی قوم کا اثر آپ پر نہیں پڑنا چاہئے۔یہ فاتحانہ مضمون ہے جو خاتم کے لفظ میں بیان ہوا ہے اور جس کو نظر انداز کر کے جوظاہری علماء نے اس کا مفہوم پیش کیا ہے اس کے نتیجہ میں وہ ہر دوسری قوم سے متاثر ہو جائیں گے اور کسی ایک قوم کو بھی متاثر نہیں کرسکیں گے۔کیونکہ آنحضرت علہ کو نبیوں کی وہ مہر قرار دے رہے ہیں جو نبی گویا لگا دیتے ہیں، مفعولی حالت ہے۔نبی بنانے والی مہر یا نبیوں کا اثر قبول کرنے والی مہر یہی تو فیصلہ کن بات ہے ساری۔پس ہم جس مہر کے قائل ہیں جس خاتم کے قائل ہیں وہ ایسا خاتم ہے جو اپنی صفات کو اپنے اخلاق کو اپنے کردار کو دوسروں میں جاری کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور ان کی صفات اور ان کے اخلاق اور ان کے کردار کو یکسر بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔تو اس پہلو سے جب آپ دوبارہ اس آیت کو پڑھیں تو مراد یہ ہوگی۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن تم کون سے مرد لئے پھرتے ہو کہ جن کا باپ نہیں تم ایسے مرد ہو کو اپنی اولادوں میں بھی اپنے نقوش جاری نہیں کر سکتے۔عقبہ کی بھی جو اولاد ہوگی اس پر بھی حمد مصطفی ﷺ کا رنگ غالب آنے والا ہے اور شیبہ کی جو اولاد ہوگی اس پر بھی محمد مصطفی علی ﷺ کا رنگ غالب آنے والا ہے اور ابوجہل کی جو اولاد ہوگی اس پر بھی محمد مصطفی ﷺ کا رنگ غالب آنے والا ہے اور ولید کی جو اولا د ہوگی اس پر بھی محمد مصطفی ﷺ کا رنگ غالب آنے والا ہے۔یہ تو نبیوں کا باپ ہے تمہارے جیسے مردوں کی حیثیت کیا ہے کہ اس کے ساتھ مقابلہ کرو اور اس کی تہذیب پر غالب آنے کی کوشش کرو۔یہ ہے زحل کا مفہوم جس میں رجولیت پائی جاتی ہے۔غیر معمولی عظیم الشان قوت مؤثرہ پائی جاتی ہے۔اس پہلو سے احمدیوں کا زندہ رہنا ہے۔اگر آپ حقیقہ آنحضرت ﷺ کا یہ مقام سمجھے