خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 634 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 634

خطبات طاہر جلد۵ 634 خطبه جمعه ۲۶ ر ستمبر ۱۹۸۶ء میں اور بھی علماء آجکل ایسی باتیں کرتے ہیں اور جب وہ بند کر دیتی ہے تو اس میں نہ کوئی جاسکتا ہے اور نہ کوئی باہر آ سکتا ہے۔اس لئے ہر قسم کی نبوت ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئی۔حالانکہ وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ پرانے علماء اور بزرگ علماء نے بڑی وضاحت سے یہ بات لکھی ہے کہ خاتم کے دو معنے ہیں ایک وہ مہر جو اپنی تصویر بناتی ہے اور ایک وہ تصویر جو مہر سے بنتی ہے۔آنحضرت علی تصویر بنانے والے ہیں۔بنی ہوئی تصور نہیں ہیں وہ مہر نہیں جو لفافے پر نقش ہو جاتی ہے بلکہ وہ مہر ہیں جو نقش بناتی ہے۔اگر آپ یہ معنی لیں کہ لفافے والی مہر مراد ہے تو نعوذ بالله من ذالک انتہائی خطرناک رسول اکرم الله ﷺ کی گستاخی ہوگئی ہے۔اس کا مطلب بنے گا کہ انبیاء نے یہ مہر لگائی ہے یعنی محمد مصطفی عملے کو انبیاء نے پیدا کیا ہے اور ان کی تاثیر کے نتیجہ میں محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے ہیں کیونکہ انبیاء کی مہر سے مرادا گر وہ مہر ہے جو لفافے پر نقش ہوگئی تو انبیاء نے بنائی وہ مہر اور اگر وہ مہر مراد ہے جو نقش کرتی ہے تو پھر وہ مہر تو ہمیشہ الگ رہتی ہے اور آزاد رہتی ہے اس نقش سے جو وہ پیدا کرتی ہے اور انبیاء کی مہر سے انبیاء پیدا کرنے والا مراد ہوگی پھر یعنی فاعلی حالت میں آپ اس کے معنی کر سکتے ہیں یا مفعولی حال میں کر سکتے ہیں۔اگر آنحضرت کے خاتم ان معنوں میں ہیں کہ آپ خاتمیت کی تاثیر رکھنے والے ہیں۔آپ اپنی سیرت کو دوسرے میں منتقل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں تو مراد یہ ہوگی کہ یہ تو نبی گر ہے۔ایسی عظیم الشان اس کی تاثیر ہے کہ عام مرد تو کیا انبیاء بھی اس کے سامنے آئیں تو اس کے رنگوں میں مبتلا ہو جائیں اس کے نقوش اختیار کر لیں اور اپنی صورتیں بدل لیں۔کوئی بھی اہمیت ان کے نزدیک پہلی شکلوں کی باقی نہ رہے اپنے اخلاق کو اخلاق نہ سمجھیں۔اپنی خوبیوں کو خو بیاں نہ سمجھیں محمد مصطفی معے کے رنگ میں رنگین ہونے کو ہی اپنی زندگی کا سب سے بڑا فخر سمجھیں اور عملاً جو خوبیاں انبیاء میں پائی جاتی ہیں وہ بھی آپ کے دائمی نقش سے تعلق رکھنے والی ہیں جو ماضی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کے بیان کرنے کے معا بعد فرمایا وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْ ءٍ عَلِیماً یعنی یہ جو مضمون ہے اس کا خدا تعالیٰ کے علم سے گہرا تعلق ہے۔جب خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد مصطفی ﷺ ہی خاتم الانبیاء ہیں تو وہ ماضی کا علم رکھنے والا بھی خدا ہے اور مستقبل کا علم رکھنے والا خدا ہے۔جانتا ہے کہ یہ وہ وجود ہے جو اثر قبول نہیں کرتا بلکہ اثر پیدا کرنے والا وجود ہے اور انبیاء کو