خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 636 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 636

خطبات طاہر جلد۵ 636 خطبه جمعه ۲۶ ستمبر ۱۹۸۶ء چکے ہیں اور اسی مقام کو سمجھنے کے نتیجہ میں آپ کو قتل کیا جا رہا ہے، آپ کا خون بہایا جارہا ہے، آپ کو قیدوں میں پھینکا جارہا ہے، آپ کے اموال لوٹے جارہے ہیں ، آپ کو حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔تو اس مقام کو سمجھ کر اس کی قیمت تو وصول کریں۔کیسا نقصان کا سودا ہوگا کہ اس وجہ سے آپ کو دکھ دیئے جائیں اور آپ کا پاس جو کچھ ہے وہ لوٹ لیا جائے کہ آپ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو تمام انبیاء سے بڑھ کر غالب اثر رکھنے والا یقین کرتے تھے اور یہی آپ کا ایمان تھا اور آپ اپنی ذات میں اس مضمون کو بھول جائیں اور غیر انبیاء کی قوموں سے اثر قبول کرنے لگ جائیں۔ہر غیر نبی حضرت حمد مصطفی ﷺ کے زیر نگیں آنے والا ہے اور ہر غیر بی کی قوم آنحضرت ﷺ کی قوم کے زیرنگیں آنے والی ہے۔یہ ہے خاتمیت کا پیغام جو آپ کو دیا گیا اور اس پیغام کی خاطر آپ نے بے انتہاء قربانیاں دی ہیں اور دیتے چلے جائیں گے۔اس کے فوائد سے کیوں محروم رہتے ہیں ، کیوں اپنے آپ کو مغلوب بنا لیتے ہیں، کیوں آپ اپنے آپ کو متاثر کر لیتے ہیں ، کیوں آپ کی عورتیں بھی یہ میدان چھوڑ دیتی ہیں اور آپ کے مرد بھی یہ میدان چھوڑ دیتے ہیں؟ برقع کے مضمون میں محض عورتوں کا قصور نہیں ہے۔مردوں نے خاتمیت کے مضمون کو بھلایا ہے تو عورتوں نے یہ حرکتیں کی ہیں۔مرد اگر مؤثر رہتے تو ممکن نہیں تھا کہ ان کی عورتیں بے پرواہی کرتیں اور بے راہ روی اختیار کرتیں یا دوسری تہذیبوں سے مغلوب ہو جاتیں اور ان کے سامنے آنکھیں جھکا لیتیں۔آپ کو سر اٹھا کر چلنا چاہئے تھا اور اس شان کے ساتھ سراٹھا کر چلنا چاہئے تھا کہ آپ بتاتے دنیا کو اور دکھاتے کہ آپ کی قدریں غالب قدریں ہیں آپ کے پاس جو کچھ ہے یہی اعلیٰ ہے اور یہی اس بات کا مستحق کرتا ہے آپ کو کہ آپ شان کے ساتھ سراٹھا کر چلیں لیکن آنحضرت مے کی تہذیب کو لے کر چوروں کی طرح سر جھکا کر اور جسم بچا کر چلنے لگ جائیں اور شرما کر ان کی گلیوں سے گزریں تو یہ کیسے آپ کا اثر قبول کریں گے۔اپنی تہذیب کی قدروں کو سمجھیں ان پر غور کریں اور سمجھیں کہ آپ کی فلاح بھی اسی میں مضمر ہے اور آپ کے دل کا سکون بھی اسی میں مضمر ہے اور ان قوموں کی جو خیر آپ سے وابستہ ہے وہ اسی صورت میں ان کو نصیب ہوگی اگر آپ پوری طرح کامل اطمینان کے ساتھ اپنی تہذیب پر یقین رکھیں گے اور اپنے اعمال میں اس یقین کو دکھائیں گے اور ثابت کریں گے کہ آپ کو خاتم کے غلام کے طور پر زندہ