خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 632 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 632

خطبات طاہر جلد۵ 632 خطبه جمعه ۲۶ / تمبر ۱۹۸۶ء ہم اسلام کو از سرنو دنیا پر غالب کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔وہ بلند بانگ دعوے کرتے تھے اور کرتے ہیں کہ ہم نے امریکہ کو بھی فتح کرنا ہے اور روس کو بھی فتح کرنا ہے اور چین کو بھی فتح کرنا ہے اور جاپان کو بھی فتح کرنا ہے اور کینیڈا کو بھی فتح کرنا ہے اور انگلستان کو بھی فتح کرنا ہے اور جرمنی کو بھی کرنا ہے اور یورپ کے دیگر ممالک کو بھی اور یہ سارے اسلام کے زیر نگیں لانے ہیں۔یہ دعوے لے کر جو قوم اٹھی ہو اور ان دعووں میں سچا ایمان رکھتی ہو اور ان دعووں میں سنجیدہ ہو۔جب اس قوم کے نمائندے سفیر بن کر ان غیر قوموں میں جا کر آباد ہوتے ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ مؤثر ہیں یا متاثر۔اگر آج وہ متاثر نہیں بھی دکھائی دیتے نمایاں طور پر لیکن ایسے اعمال کر رہے ہیں کہ ان کی اولادیں متاثر ہو جائیں۔تو از ما گلی نسل ہم ان لوگوں کے سامنے ہار بیٹھیں گے اور ہمارا رخ فتح کی طرف نہیں بلکہ شکست کی طرف ہوگا۔قرآن کریم کی اس آیت کو نظر انداز کرنے والے ہوں گے کہ: أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الانبیاء: ۴۵) أَفَهُمُ الْغُلِبُونَ ) محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں کے لئے تو قرآن نے یہ معیار پیش کیا تھا۔ان کے مقابل پر فتح کے دعوی کرنے والوں کو یہ بیان فرمایا، یہ کہ کر متوجہ کیا کہ یہ بڑھ رہے ہیں اور پھیل رہے ہیں اور تمہاری تہذیب کو ہر طرف سے چاٹتے چلے جارہے ہیں اور ختم کرتے چلے جارہے ہیں۔جس طرح سیلاب کناروں کو کھا جاتا ہے اس طرح یہ ایسے موثر لوگ ہیں ایسے غالب اثر رکھنے والے لوگ ہیں کہ دن بدن اردگرد سے تمہاری زمینیں کم کرتے چلے جارہے ہیں اور پھر تم یہ دعوی کرتے ہو کہ تم غالب آؤ گے۔جن کی زمینیں گھٹ رہی ہوں جن کے کنارے ٹوٹ رہے ہوں وہ تو غالب نہیں آیا کرتے۔وہ جو پھیلتے ہیں اور اثر انداز ہوا کرتے ہیں وہ غالب آیا کرتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ کیسے غالب آجائیں گے۔محمد مصطفی ﷺ اور ان کے ساتھی جو دن بدن ان کی زمینیں کاٹ رہے ہیں اور گھیر تے چلے جارہے ہیں ان کو اور کہتے یہ ہیں کہ ہم غالب آئیں گے۔تو کیا یہی صورت ان احمدیوں کی بھی ہے جو غیر قوموں میں جا کر آباد ہوئے ، جن کی فتح کا دعوئی لے کر وہ اٹھے تھے اور جن کی فتح کا دعویٰ لے کر آج بھی وہ زندہ ہیں۔اگر ان کی تہذیب غالب آ رہی ہے، اگر ان کے کنارے منہدم کر رہے ہیں اور ان کا اثر پھیلتا چلا جارہا ہے تو یقیناً یہ قرآن کریم