خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 631 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 631

خطبات طاہر جلد۵ 631 خطبه جمعه ۲۶ ر ستمبر ۱۹۸۶ء ہوتی اس پس منظر کو نہیں سمجھ رہی ہوتی یہ بہت ہی سادگی ہے، بہت ہی بھولا پن ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے بچوں کو بہت ہی ذہین بنایا ہے۔جب وہ دیکھتے ہیں اپنے ماں اور اپنے باپ کا انداز تو اس کی روح کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ، ظاہر کو نہیں دیکھ رہے ہوتے اور اگر انہوں نے بدی کی طرف ایک قدم اٹھایا ہے تو دس گنا زیادہ تیزی سے اس کی طرف بڑھتے ہیں اور اگلی نسل کی آنکھیں بدلنے لگتی ہیں اور جو لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے کچھ دیر کے بعد ان کی اولا دان کے لئے معمہ بن جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں ہم تو ایسے برے نہیں تھے۔ہم نے تو ظاہری طور پر سب تقاضے پورے کئے، جماعت میں تعلق رکھا، نمازیں بھی پڑھیں، چندے بھی دیئے یہ اولاد کی نظریں بگڑ گئیں ہیں۔ان کو کیا ہو گیا ہے ان کے لئے پھر وہ بے چین بھی ہوتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ چند بے احتیاطیاں انہوں نے ایسی کی ہوتی ہیں جو دراصل غیر تہذیب سے مرعوب ہونے کے نتیجہ میں وہ کرتے ہیں اور اولاد جان لیتی ہے کہ ہمارے ماں باپ اس معاملہ میں شکست کھا چکے ہیں۔روکیں ٹوٹ چکی ہیں اور پھر وہ تیزی کے ساتھ بے دھڑک آٹھ دس گنا زیادہ رفتار کے ساتھ ان رستوں پر چل پڑتے ہیں اور جب وہ اپنے سے بہت آگے بڑھتا ہوا ان بدیوں میں دیکھتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ ہم نے تو نہیں کہا تھا۔ہم تو روکتے ہی رہے ان کو ، ہم تو یہی تعلیم دیتے رہے کہ ٹھیک بنو، ان کو کیا ہو گیا ہے۔پس جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے قوموں کی زندگی اور ترقی کا راز اس مسئلہ میں ہے۔اس کو سمجھیں اور اس کو زندہ رکھیں ، یا درکھیں کہ نیکیوں میں اگر آپ دس قدم اٹھا ئیں گے تو آپ کی اولا د ایک قدم اٹھائے گی۔سوائے اس کے کہ دس گنا محنت سے آپ اس اولا د کو اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کریں اور بدیوں میں اگر ایک قدم آپ اٹھا ئیں گے تو آپ کی اولا د دس قدم اٹھائے گی۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور بعض اور محرکات اس اولا دکوروک لیں یا نظام جماعت کا غالب اثر ان کو بچالے لیکن جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق ہے یہ قانون کی شکل میں جاری قانون ہے جسے آپ روک یا بدل نہیں سکتے۔اس پہلو سے جو سب سے بڑا خطرہ مجھے در پیش ہے ہم جماعتی لحاظ سے اس کو دیکھتے ہیں تو یہ شکل نظر آتی ہے کہ ایک نسل باہر سے آئی یہاں آباد ہوئی۔ان کے ماں باپ نے یہ دعوے کئے تھے کہ