خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 633
خطبات طاہر جلد ۵ 633 خطبه جمعه ۲۶ ر ستمبر ۱۹۸۶ء کا بیان ہم پر چسپاں ہوتا ہے اور اگر یہ نہیں ہوتا ہے اور ہم دن بدن ان کی تہذیب کے نیچے مغلوب اور متاثر ہوتے چلے جارہے ہیں تو پھر یہی غالب آئیں گے۔پھر اس دعوی میں کوئی بھی سچائی نہیں کہ ہم غالب آنے والے ہیں۔کم سے کم ان نسلوں کے ذریعہ اسلام یہاں غالب نہیں ہوسکتا جو مغلوب ہو جا ئیں ان سے اور جو متاثر ہو جائیں۔اس مضمون کا خاتمیت کے ساتھ ایک بہت گہرا تعلق ہے اور خاتمیت کے صحیح معنوں کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔قرآن کریم کے مضمون کو اگر آپ صحیح سمجھیں تو اس میں عظیم الشان فوائد ہیں۔اگر غلط سمجھیں تو اسی حد تک نقصانات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو خاتمیت کی تفسیر فرمائی اس کو ہم اس لئے بھی چھٹے ہوئے ہیں اور مجبور ہیں اس سے چھٹے رہنے پر کہ اس میں امت محمدیہ کے لئے عظیم مصالح ہیں اور عظیم فوائد اس تفسیر سے وابستہ ہیں اور جو تفسیر آج کے ظاہری علماء ہم انسنا چاہتے ہیں وہ شدید نقصان کے پہلو ر کھنے والی تفسیر ہے۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ، آنحضرت علیہ کی خاتمیت کا امت کی تربیت سے ایک بہت ہی گہرا تعلق ہے اور اٹوٹ تعلق ہے جو سمجھتا ہی نہیں اس تعلق کو وہ اسے مناظروں اور کج بحثیوں کے لئے استعمال کرتا ہے اور جو سمجھتا ہے اس کے لئے اس میں عظیم الشان فوائد ہیں اور زندہ رہنے کے راز ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ کہ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ محمد مصطفی علی تم جیسے بے اثر اور بے تاثیر مردوں کے باپ نہیں ہیں جن کی تہذیب مٹ جانے والی ہے۔ہاں انبیاء کے باپ ہیں جو غالب آیا کرتے ہیں۔انبیاء کی مہر ہیں یعنی انبیاء کی بھی تشکیل کرنے والے ہیں۔انبیاء کو دیکھ کر اپنی شکل نہیں بنار ہے بلکہ ان کی شکل میں انبیاء ڈھلنے والے ہیں۔یہ ایک بہت ہی عظیم الشان تفسیر ہے جس کا اسلام کے مستقبل سے گہرا تعلق ہے۔اس کے مقابل پر وہ علماء جو نعوذ باللہ من ذالک اپنی تحریک کو تحفظ ختم نبوت کی تحریک کہتے ہیں ان کی تفسیر اس سے بالکل الٹ مضمون رکھتی ہے۔چنانچہ مولانا مودودی صاحب نے ایک بظاہر بہت دور کی کوڑی لاتے ہوئے ہمیں بتایا کہ دیکھو خاتم تو اس مہر کو کہتے ہیں جو ڈاک کے لفافے پرلگتی ہے اور اسی رنگ