خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 624
خطبات طاہر جلد۵ 624 خطبه جمعه ۲۶ ستمبر ۱۹۸۶ء اور غصے کا کوئی بھی کردار نہیں۔تربیت سے نفرت اور غصے کا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔تربیت حقیقت میں رحمت سے تعلق رکھتی ہے اور اگر آپ اس مضمون کو سمجھ جائیں تو پھر آپ تربیت کی طرف پہلا قدم اٹھانے کے اہل ہو جائیں گے اور یہ راستہ ایک بہت ہی وسیح راستہ ہے۔صرف ایک ہی قدم نہیں آتا اور بھی قدم آتے ہیں اور بھی دشواریاں پیش ہوتی ہیں۔اگر آپ تربیت کا مفہوم ہی نہ سمجھیں تو آپ تو پہلا قدم بھی نہیں اٹھا سکتے اور ہمیں تو بہت لمبے سفر کرنے ہیں۔اس مضمون کو سر دست ترک کرتے ہوئے میں واپس پردہ کی طرف آتا ہوں اور دوبارہ پھر انشاء اللہ اس خطبہ کے آخر پر اسی مضمون کو دوبارہ پکڑوں گا تا کہ اس کا تعلق خاتم سے واضح طور پر آپ کو دکھاؤں۔جہاں تک پردہ کا تعلق ہے احمدی خواتین پر اس مغربی دنیا میں بہت ہی گہری ذمہ داری ہے اور حقیقت میں وہ اپنی اولادوں کو بنا بھی سکتی ہیں اور بگاڑ بھی سکتی ہیں۔ایک ایسے ماحول سے آتی ہیں اکثر ہم میں سے کچھ تو ایسی خواتین ہیں جن کی پرورش آزاد ملکوں میں اور ترقی یافتہ ملکوں میں ہوئی لیکن بہت سی ایسی خواتین ہیں جو یہاں تشریف لائیں اور اس ملک کو یا ان ممالک کو اپنا دوسرا ملک بنا لیا۔جن کا اقتصادی پس منظر بھی مختلف ہے اور اکثر حالات میں مشکل زندگی بسر کرنے والیاں تھیں اور معاشرتی اور تمدنی پس منظر بھی اتنا مختلف ہے کہ وہاں ادنی سی آزادی پر انگلیاں اٹھا کرتی تھیں اور طعن سنا کرتی تھیں اور بعض دفعہ شکایات ہوا کرتی تھیں۔نظام کی آنکھ بھی زیادہ وسیع طور پر نظر رکھنے والی تھی اور نظام کی پکڑ بھی بسا اوقات کڑی ہوا کرتی تھی۔اس لئے وہاں جو زندگی انہوں نے بسر کی وہ زندگی آزاد زندگی نہیں تھی۔ان کی نیکیوں کے لئے پرورش پانے اور پینے کا ایسا ماحول نہیں تھا کہ ہم ان کی نیکیوں کو حقیقی نیکی سمجھ سکتے۔بہت سی ایسی نیکیاں تھیں جو دباؤ کے تابع تھیں اور بہت سی ایسی نیکیاں تھیں جو غربت کے نتیجہ میں خود بخود پیدا ہو جاتی ہیں۔حالانکہ نیکی تو وہ نیکی ہے جس میں دوام ہو، جس میں باقی رہنے کی صلاحیت ہو جو وقتی دباؤ کے تابع نہ ہو بلکہ ایک آزاد رو نیکی ہوجس کا وقتی حالات سے کوئی بھی تعلق نہ ہو جغرافیائی حالات سے کوئی بھی تعلق نہ ہو ، ہر حالت میں وہ نیکی رہے۔اسی لئے قرآن کریم نے نیکی کے ساتھ باقیات کا لفظ استعمال فرمایا البقِيتُ الصّلِحُتُ (کہف: ۴۷ )۔بلکہ باقیات کو پہلے رکھا کہ نیکی کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ وہ باقی رہنے والی ہے۔ماحول سے متاثر نہ ہو بلکہ ماحول کو متاثر کرنے والی ہو۔ہر حال میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔اسی لئے