خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 625
خطبات طاہر جلد۵ 625 خطبه جمعه ۲۶ ر ستمبر ۱۹۸۶ء جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے باقیات کے لفظ کو پہلے استعمال فرماتا ہے قرآن کریم کہ نیکی تو ہے ہی وہی جس میں بقا کی طاقت موجود ہو ، جو زندہ رہنے کی اہلیت رکھتی ہو۔وہ نیکی جو جگہ بدلنے سے مر جائے یا مرجھا جائے یا نیم جان ہو جائے اسے قرآن کریم کی اصطلاح میں نیکی نہیں کہا جاتا۔تو ایسی خواتین جو پردہ میں ملبوس رہا کرتی تھیں یا بعض دیگر امور میں اسلامی پابندیوں کو اختیار کیا کرتی تھیں جب ان سے وہ سارے دباؤ اٹھ گئے اور جب دوسرے محرکات بھی ان کو نصیب ہو گئے جو دوسرے رستوں کی طرف ان کو بلانے والے تھے۔اگر وہ نیکیاں جو وہ پہلے وطن میں کیا کرتی تھیں وہ قرآنی اصطلاح میں نیکیاں ہوتیں تو ہرگز اس تبدیلی حالات کا ان کی نیکیوں پر کوئی بھی اثر نہیں پڑنا تھا۔لیکن اگر وہ مجبوری کی نیکیاں تھیں، عصمت بی بی بے چارگی کا سا حال تھا ( یہ ایک اردو کا محاورہ ہے ) تو پھر اس صورت میں لازماً ان کے اوپر اثر پڑنا چاہئے تھا اور یہ اثرات کم و بیش بہت سی صورتوں میں ہمیں پڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔پردہ پر جو اس کا اثر پڑا وہ ایسا اثر نہیں ہے جو ان کی ذات تک محدود رہے۔اس سے قومی کردار کے بنے یا بگڑنے کا تعلق ہے، آئندہ نسلوں کے سنبھلنے یا ٹھوکر کھانے کا تعلق ہے اور بہت ہی اہم مضمون ہے کیونکہ یہاں جو سب سے بڑا مقابلہ ہے وہ مذہبی دلائل کا نہیں بلکہ تہذیب کی برتری یا تہذیب کے ادنیٰ ہونے کا مقابلہ ہے۔مذہبی دلائل بعد کی باتیں ہیں اس دنیا میں۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت اسلام کی نکر تہذیب کے میدان میں ہو رہی ہے۔ایک مغربی تہذیب ہے جس نے اوڑھنی اوڑھ رکھی ہے عیسائیت کی حقیقت میں وہ عیسائیت نہیں ہے ایک فرضی نام ہے عیسائی تہذیب۔عیسائیت کا اس تہذیب سے دور کا بھی تعلق نہیں اور ایک اسلامی تہذیب ہے اس کے مقابل پر۔ان لوگوں کو جو مادہ پرست ہو چکے ہیں ان کو اگر تہذیب کی برتری دکھائی دے گی اور طمانیت قلب کسی تہذیب میں نظر آئے گا اور کسی تہذیب میں زندہ رہنے کی صلاحیت اور طاقت دکھائی دے گی تو پھر تو یہ اسلام سے مرعوب ہو سکتے ہیں۔اگر یہ ان کو دکھائی نہیں دے گا تو آپ کے دلائل کچھ بھی اثر نہیں دکھائیں گے۔تو ایک معمولی مضمون نہیں ہے ایک بہت ہی بڑا اور وسیع مضمون ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر میں بار بار پہلے توجہ دلا چکا ہوں۔پردہ ضروری نہیں ہے کہ برقع کی صورت میں اختیار کیا