خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 623 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 623

خطبات طاہر جلد ۵ 623 خطبه جمعه ۲۶ ستمبر ۱۹۸۶ء عالمین میں انسانوں کے علاوہ بھی تخلیق کو داخل فرما دیا اور انسان سے ادنی تخلیق آنحضرت عے سے اور بھی زیادہ دور تھی کیونکہ تخلیق میں سب سے اوپر انسان ہے۔تو آپ کے انتہائی انکسار کے پہلو کو ظاہر فرمانے کے لئے اور آپ کے خدا تعالیٰ کی تخلیق سے گہرے لامتناہی تعلق کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمتہ للعالمین قرار دیا کہ انسان تو انسان وہ ادنی مخلوقات بھی جو آنحضرت علیہ سے اپنے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے بہت ہی گہرائی میں ہے اور بظاہر کوئی بھی ان کا تعلق نہیں ان پر بھی آپ رحمت کی نظر ڈالتے ہیں اور پیار کی نظر سے ان کو دیکھتے ہیں اور ان کی کمزوریوں سے تکلیف اٹھاتے ہیں ان کی سہولت سے آپ کا دل خوش ہوتا ہے اور آپ راحت پاتے ہیں۔پس آپ کی زندگی میں ایسے بکثرت واقعات ملتے ہیں جن سے آپ کا رحمتہ للعالمین ہونا اور اس مضمون کے وسیع ہونے کا پتہ چلتا ہے۔جاندار چیزیں تو جاندار ہیں بظاہر جو بے جان چیزیں ان پر بھی آپ کی رحمت عام تھی اور ان کے لئے بھی آپ دکھ محسوس فرماتے تھے اگر وہ دکھ میں مبتلا ہوں۔آنحضرت ﷺ کی زندگی میں دو دور ہیں ایک وہ جب آپ ایک درخت کے تنے کے ساتھ سہارا لے کر خطبہ دیا کرتے تھے اور ایک بعد کا دور ہے جبکہ آپ کے لئے منبر بنایا گیا اور آپ منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔پہلی مرتبہ جب آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو کچھ دیر کے بعد منبر چھوڑ کر اس درخت کے پاس آگئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور آپ نے بتایا کہ میں جب منبر پر کھڑا ہوا تو اس درخت سے درد کی چیچنیں اور کراہنے کی آواز میں نے سنی اور مجھے پتہ لگا کہ یہ تکلیف میں مبتلا ہے کہ کیا شان تھی ایک وقت میری کہ محمد مصطفی ﷺ مجھ پر ہاتھ رکھ کر خطبہ دیا کرتے تھے اور آج مجھے سے جدا ہو گئے۔خطبہ کے دوران جب کشفی حالت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ نظارہ دکھایا تو منبر کو چھوڑ کر اس درخت کے پاس تشریف لے آئے اور دوبارہ اس پر ہاتھ رکھ کے خطبہ دیا۔( بخاری کتاب البيوع حدیث نمبر : ۱۵۹۲) یہ ایک کشفی نظارہ تھا جو ہمارے لئے ایک گہر اسبق رکھتا ہے کہ کس درجہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو ادنیٰ سے ادنی چیز کے لئے پیار تھا اور اس کے لیے محبت تھی اور اس کے لئے درد محسوس فرماتے تھے اور جب ہم سنتے ہیں کہ آپ رحمتہ للعالمین تھے تو یہ ایک فرضی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت ہی گہرا مضمون ہے جس کا حقیقت سے تعلق۔ہے۔پس اگر تربیت سیکھنی ہے تو آنحضرت ﷺ ہی سے سیکھنی پڑے گی اور تربیت میں نفرت