خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 613
خطبات طاہر جلد۵ 613 خطبه جمعه ۱۹ر تمبر ۱۹۸۶ء سمجھا جاتا ہے کہ عورت ذات ہے تو اس میں یہ بات ضرورت پائی جاتی ہے۔مقابل پر عورتوں نے بھی شاید مردوں کے لئے کچھ ایجاد کئے ہوں مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس حیثیت سے ہرگز کوئی تفریق نہیں ہوسکتی۔عزت کے لحاظ سے بلند مرتبے کے لحاظ سے صرف اور صرف ایک معیار ہے اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ آنقكُم وہی تم میں سب سے معزز ہے جو سب سے زیادہ خدا کا خوف رکھنے والا ہے۔اِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور خوب خبر رکھتا ہے اس بات کی کہ تم لوگ کیا کرتے ہو ، کیوں کرتے ہو، تمہارے اعمال کی کننہ کیا ہے ، مقصد کیا ہے تمہاری باتوں اور تمہارے افعال کا ، ہر بات سے اول سے آخر تک خوب باخبر ہے اور ان کے پیدا ہونے والے نتائج سے بھی باخبر ہے، دور دراز اثرات جو ان کے مرتب ہوں گے ان پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔آنحضرت معہ چونکہ صفات باری کے مظہر اتم تھے ان معنوں میں کہ انسان کو جتنی بھی استطاعت ہے خدا کی صفات میں رنگین ہونے کی اس کو آنحضرت ﷺ نے درجہ کمال تک پہنچا دیا۔اور درجہ کمال تک پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صفات حسنہ میں سب سے آگے بڑھ گئے اور صلى الله قرآن کریم نے بھی اسی مضمون کو آنحضرت علیہ کے حق میں باندھا اور حضرت رسول اکرم ﷺ نے بھی اس مضمون کو اپنے الفاظ میں بیان فرمایا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔انما بعثت لاتمم مكارم الاخلاق الکبرای کتاب الشهادة باب بیان مکارم الاخلاق) ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ میں اعلیٰ ترین اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔حضرت امام مالک موطا میں یہی روایت درج فرماتے ہیں مگر ایک لفظی فرق کے ساتھ۔وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں تو یہ بات پہنچی ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا بعثت لاتمم حسن الاخلاق (موطا کتاب الجامع باب فی حسن الخلق ) کہ میں اس لئے مبعوث فرمایا گیا ہوں کہ میں اخلاق کے حسن کو اس کے درجہ کمال تک پہنچا دوں۔بنیادی طور پر مضمون ایک ہی ہے۔پس صفات باری پر تعالیٰ میں رنگین ہونے کا مطلب جہاں ایک طرف الوہیت سے تعلق قائم کرنا ہے وہاں دوسری طرف عبدیت سے تعلق قائم کرنا بھی ہے اور اخلاق کا بہترین ہونا اس کا ایک طبعی اور لازمی نتیجہ ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی انسان با خدا تو بن رہا ہو خدا کی صفات میں تو رنگین ہو رہا ہولیکن دنیا کے لحاظ سے