خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 614
خطبات طاہر جلد۵ 614 خطبه جمعه ۱۹ر تمبر ۱۹۸۶ء نہایت بدخو ہو اور انسانوں کے لئے اس کا گوشہ نرم نہ ہو۔اس لئے صفات باری تعالیٰ کا جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں اس کا یہ مقصد ہے کہ جماعت احمد یہ ان صفات میں اس طرح رنگین ہو کہ اس کا ایک رنگ بنی نوع انسان پر بھی ظاہر ہو رہا ہو ساتھ ساتھ۔یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اندرونی طور پر انسان میں کوئی پاک تبدیلی ایسی پیدا ہو کہ خدا تعالیٰ سے اس کا تعلق بڑھ رہا ہو اور اس کے باوجود بنی نوع انسان سے اس کا تعلق کم ہورہا ہو، خدا تعالیٰ کے لئے اس کا دل نرم ہو رہا ہو اور بنی نوع انسان کے لئے اس کا دل سخت ہو رہا ہو۔یہ متضاد باتیں ہیں یہ ایک وقت میں ممکن ہی نہیں۔اس لئے صفات باری تعالیٰ کے سب سے کامل ،سب سے حسین مظہر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو دیکھیں تو یہ عقدہ حل ہو جائے گا جتنا زیادہ خدا کی صفات میں آپ رنگین ہوئے اتنا ہی زیادہ حسن اخلاق کی دولت آپ کو عطا فرمائی گئی بلکہ یہاں تک عظمت آپ کو عطا کی گئی کہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا کہ تجھے ہم نے عظیم اخلاق پر قائم فرمایا ہے۔عظیم سے بڑھ کر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق کے لئے کوئی اور لفظ استعمال نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں۔اللہ جل شانہ ہمارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: ۵) یعنی تو ایک بزرگ خلق پر قائم ہے۔سو اسی تشریح کے مطابق اس کے معنی ہیں یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی سخاوت، شجاعت ، عدل ، رحم ، احسان ، صدق، حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں۔غرض جس قدر انسان کے دل میں قو تیں پائی جاتی ہیں۔جیسا کہ ادب ، حیا، دیانت، مروت، غیرت ، استقامت ، عفت، زہادت، اعتدال ، مواسات یعنی ہمدردی ، ایسا ہی شجاعت، سخاوت،عفو صبر ، احسان ،صدق ، وفا وغیرہ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورہ سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہوگا۔اور یہ تمام اخلاق در حقیقت انسانی کی طبعی حالتیں اور طبعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے ہیں کہ جب محل اور موقع کے لحاظ سے بالا رادہ ان کو استعمال کیا جائے“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد نمبر، اصفحه ۳۳۳)