خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 568 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 568

خطبات طاہر جلد۵ 568 خطبه جمعه ۲۲ را گست ۱۹۸۶ء مقابلہ کرنا ہے اور باقی ساری دنیا کی جماعتیں جس طرح دعاؤں کے ذریعہ پاکستانی جماعتوں کی مدد کر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے سہارے ان کو اپنی دعاؤں کے ذریعہ مہیا کرنے میں اپنی پوری سعی کر رہی ہیں اور ہم ان دعاؤں کے اثرات دیکھ بھی رہے ہیں۔خدا کے فضل تو ویسے بھی نازل ہونے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ ایک عجیب خاص بندے سے پیار کا سلوک ہے کہ جب ان کاموں میں بھی جن کاموں میں خدا نے بہر حال یہ فیصلے کئے ہوتے ہیں کہ میں ان کو کر کے رہوں گا ان کاموں میں بھی بندہ کہتا ہے کہ اے اللہ ! میں بھی چاہتا ہوں کہ یہ ہو جائے تو وہ اور زیادہ شان کے ساتھ ان کا موں کو کرتا ہے یہ بتانے کے لئے کہ ہاں میں نے تیری آواز کو بھی سنا تیری کوشش کا بھی دخل ہو گیا ہے۔جب آپ دھکیل رہے ہوتے ہیں کا رکو تو ایک کمزور اور نا تو ان آدمی اور لنگڑا بھی ہو بے چارہ وہ بھی اگر ہاتھ لگا دے تو لوگ یہ تو نہیں کہا کرتے کہ جاؤ بھا گو تمہاری ضرورت نہیں ہے۔اگر شرافت ہو، اگر حیاء ہو تو کہتے ہیں ہاں ہاں ہم تمہیں جگہ دیتے ہیں آؤ تم بھی شامل ہو اور تحسین سے اسکو دیکھتے ہیں۔اللہ تو سب شکر یہ ادا کرنے والوں سے زیادہ شکر یہ ادا کرنے والا ہے۔ہر خدمت کرنے والے کو زیادہ احسان مندی کی نگاہ سے دیکھنے والا ہے۔یہ حکمت ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں تاکید فرمائی کہ محمد مصطفی ﷺ پر درود بھیجا کرو۔اب یہ ظاہری بات ہے کہ آنحضرت ﷺ پر رحمتیں اور شفقتیں فرمانے کے لئے اور فضل نازل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو ہماری پکار کی کیا ضرورت تھی کہ تم دعائیں کرو گے تو میں بھیجوں گا اور نہ نہیں بھیجوں گا۔وہ تو خدا نے بھیجنا ہی بھیجنا تھا اس پر رحمتوں اور فضلوں اور برکات کو۔اس کثرت سے کہ جس کثرت سے خدا تعالیٰ کسی بندے پر فضل نازل فرما سکتا ہے، ان فضلوں نے بہر حال آنحضرت ﷺ پر نازل ہونا ہے۔پھر یہ کیا حکمت ہوئی کہ تم بھی درود بھیجو اور خدا بھی بھیجتا ہے اور فرشتے بھی بھیجتے ہیں۔اس کے بعد کی کیا ضرورت ہے بندوں کے درود بھیجنے کی؟ اور حکمتوں کے علاوہ ایک یہ بھی ہے تا کہ خدا آپ کی دعاؤں کو سنے ، آپ کے درود کو قبول فرمائے اور اور زیادہ فضل یہ کہہ کر نازل فرمائے کہ دیکھو میں نے تمہارا حصہ بھی ڈال لیا ہے۔آنحضرت عملے کے یک طرفہ احسانات اتنے تھے تم پر کہ کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی تمہیں کہ کسی طرح بھی ان احسانات کو ادا کرنے کا تصور بھی باندھ سکو لیکن ہماری