خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 542

خطبات طاہر جلد۵ 542 خطبه جمعه ۸/ اگست ۱۹۸۶ء ہر ایک کو ہول میں مبتلا کر دے اس کا اور کوئی بھی نتیجہ پیدا نہیں ہوسکتا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی اس طبعی طور پر اٹھنے والے سوال کا جواب دے دیا اور معاملے کو اس طرح کھول دیا ہے کہ اس کے بعد کسی شک کی کوئی دور کی بھی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ہر وہ شخص جو اپنے اعمال کو حسین دیکھ رہا ہو اس کے لئے ساتھ ہی کسوٹی رکھ دی کہ اگر تم خطرہ محسوس کرتے ہو گے کہ کہیں ان لوگوں میں تو نہیں جو حسین تو دیکھتے ہیں اپنے اعمال کو لیکن خدا کی نظر انہیں بد دیکھ رہی ہوتی ہے تو یہ کسوٹی ہے، اس کو دیکھو وَاللهُ الَّذِى اَرْسَلَ الرِّيحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنُهُ إِلَى بَلَدٍ مَّيْتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وہ لوگ جو اللہ کی خاطر نیک اعمال کرتے ہیں جو خدا کے نام پر نکلتے ہیں اور واقعہ وہ خدا کے نام پر نکل رہے ہوتے ہیں۔وہ تو زندگی بخش لوگ ہوتے ہیں۔وہ تو ایسے رحمت کے بادلوں کی طرح پھرتے ہیں دنیا میں جو زندگیاں برساتے پھرتے ہیں۔مردوں کو حیات نو عطا کر دیتے ہیں اور ان سے فضل اور رحمت جاری ہوتی ہے نہ کہ ظلم اور ہلاکت اور تعدی اور موت کی دھمکیاں۔ان دونوں پہلوؤں سے جب ہم موازنہ کرتے ہیں ان کا رروائیوں کا جو خدا کے نام پر منعقد کرنے والے عظیم انٹر نیشنل اجلاسات میں کی گئیں تو بات کھل کر سامنے آجاتی ہے۔اللہ اور محمد مصطفی ﷺ کی ناموس کے نام پر جو انٹر نیشنل کانفرنس پاکستان سے اور بعض دیگر ممالک سے آنے والے علماء نے کی اس کی رپورٹ میں نے کل ہی مطالعہ کی ہے۔اول سے آخر تک نہایت گندے مغلظات ہیں۔ان کی ریکارڈنگ بھی ہمارے پاس موجود ہے۔اتنا گند بولا گیا ہے کہ وہ لاہور یا بعض دوسرے شہروں کے گندے علاقے جن کی بد زبانی مشہور ہے وہ بھی شاید اس کلام کو سن کر شرما جائیں جو خدا اور رسول کے نام پر آنحضرت علیہ کی طرف منسوب ہونے والے منبروں پر چڑھ کے بولا گیا ہے۔اور ر پورٹ یہ ہے اور اس رپورٹ کی تصدیق اس ریکارڈنگ سے ہوتی ہے جو ہمارے پاس موجود ہے کہ جتنی گندی گالیاں دینے والا مولوی آیا اتنی ہی زیادہ اس کی واہ واہ ہوئی، اتنے ہی زیادہ نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوئے یعنی گندی گالیوں کے نام پر اللہ کی تکبیر بلند ہورہی ہے۔خبیث نہ الزامات کے نتیجہ میں خدا یاد آ رہا ہے۔یہ کیا مذہب ہے اور جو اس مذہب کو حسین بنا کے حسین سمجھ رہا ہے اس بے چارے کے اوپر سوائے اس کے کہ ہمارے دل میں حسرتیں پیدا ہوں اور اس کے لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے اور ہر تقریر کا آخری مدعا یہ تھا کہ ہر احمدی کو ہم ہلاک کر دیں گے اور لیڈر سے لے کے نام لے کر چھوٹے سے چھوٹے