خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 541
خطبات طاہر جلد۵ 541 خطبه جمعه ۸/ اگست ۱۹۸۶ء انگلستان میں دو انٹر نیشنل کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ایک جماعت احمدیہ کی طرف سے اور ایک جماعت احمدیہ کے معاندین اور مخالفین کی طرف سے۔دونوں میں جہاں تک نیتوں اور مقاصد کا تعلق تھا دونوں کے مقاصد بظاہر نہایت نیک اور بلند پرواز تھے۔اللہ اور رسول کی محبت کے نام پر یہ دونوں جلسے کئے گئے۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض دفعہ جب دونوں ارادے یا دونوں ادعا کہنا چاہئے ایک جیسے ہوں یعنی ایک کا عمل بھی بظاہر حسین اس کو نظر آرہا ہو اور دوسرے کا عمل بھی اس کو حسین نظر آرہا ہو تو بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ عمل تو حسین نظر آرہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت عمل حسین نہیں ہوتا۔ایسی صورت میں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو گمراہ قرار دے دے اور ان کے لئے کوئی اور عاقبت مقدر نہیں ہوسکتی۔جو لوگ بدی کریں نیک کاموں پر، نیک ناموں پر، نیک ادعا لے کر اور سمجھ رہے ہوں کہ وہ بہت ہی حسین کام کر رہے ہیں ان کی ہلاکت خدا تعالیٰ کے نزدیک یقینی ہے اور اتنی یقینی کہ جب اس کی خبر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ کو دی گئی تو ساتھ ہی بڑے پیار اور محبت سے یہ فرمایا کہ اس خبر کے نتیجہ میں تیرا دل غموں سے گھلنے نہ لگے، اس قدر حسرت تیرے دل سے اٹھے گی یہ خبرسن کے کہ ڈر ہے کہ دل ہاتھ سے جاتا رہے۔فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ۔پر ایسا نہ کرنا إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ایسے لوگ جو غلط فہمیوں میں مبتلا ہوکر بدیاں کرتے ہیں اور بدیوں کا نام حسین رکھ دیتے ہیں اور بعض دفعہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں، ان کے کاموں سے خدا تعالیٰ واقف ہے اور وہی ان کو جزا دے گا وہی ان کے نتیجے پیدا فرمائے گا۔یہ دعوئی ہے تو بہت عظیم اور نفسیات کا ایک گہرا نکتہ بیان فرمارہا ہے اور روزمرہ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک خطرے کی گھنٹی بھی بجاتا ہے۔ہر دعویٰ کرنے والا کہ میں نیک عمل کر رہا ہوں ، وہ جب اس بات کو سنتا ہے تو اس کا دل خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے ، خطرات محسوس کرنے لگتا ہے۔سوچتا ہے کہ کہیں خدانخواستہ میں تو ان لوگوں میں سے نہیں۔نیک ارادے کرنے والے ہر قسم کے لوگ دنیا میں موجود ہیں ، اپنے عمل کو اچھا دیکھنے والے ہر قسم کے موجود ہیں تو پھر تفریق کیا ہوگی؟ کیا اس دنیا میں کوئی اطمینان کی صورت نہیں ہے کہ ایک اچھے عمل والا یقینی طور پر کہہ سکے کہ ہاں میرے عمل اچھے ہیں اور خدا کی نظر میں اچھے ہیں اور ایک بداعمال والا معلوم کر سکے اگر ایسا کوئی نظام مقرر نہ ہو تو یہ آیت تو سوائے اس کے کہ خطرے کی گھنٹیاں بجائے اور