خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 523
خطبات طاہر جلد۵ 523 خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۸۶ء وارث ہیں اور کل وارث بننے والے ہیں جو خدا تعالیٰ سے دعاؤں کا تعلق جوڑتے ہیں اور قبولیت دعا کے نشان پاتے ہیں۔آج جس قوم میں بھی یہ علامتیں پائی جاتی ہیں لا زم وہی ہے جس کے ساتھ آئندہ انسانیت کا مستقبل وابستہ ہو چکا ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کے تجربے کا تعلق ہے یہ تجربہ ایک یادواشخاص تک محدود نہیں، یہ تجر بہ اس نوع کا تجربہ نہیں کہ بعض جماعتیں اپنے پیروں کی روحانیت سے زندہ ہوں اور ان کی قبولیت دعا کے نشان دیکھ کر ان کی روحانیت پلتی ہو۔جماعت احمد یہ عالمگیر روحانی لحاظ سے ایک ایسی زندہ جماعت ہے کہ زمین کے کناروں تک جہاں بھی جماعت احمد یہ پائی جاتی ہے خدا تعالیٰ کے براہ راست تعلق کے نشان دیکھ رہی ہے۔وہی اس کی زندگی کی غذا ہیں اور وہی آئندہ مستقبل میں ان کے لئے یقین کا سامان پیدا کرتے ہیں۔دنیا جس قسم کی مخالفتیں بھی چاہے کر لے، جیسے جیسے اندھیرے بھی ہمارے سامنے ہماری راہ روکتے ہوئے دکھائی دیں، دعا کا تعلق ایک ایسا تعلق ہے، یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو ہر قسم کی مخالفتوں پر بالآخر غالب آنے والا ہے اور ہر قسم کے اندھیروں کے سینے چیرنے کی طاقت رکھتا ہے۔روزانہ جو مجھے سینکڑوں خطوط موصول ہوتے ہیں ان میں بکثرت قبولیت دعا کے نشانات کے اظہار پر مبنی خطوط بھی ہوتے ہیں۔کہیں کوئی نجی کے دور دراز جزیرے میں بیٹھا رات کو دعا کرتا ہے اور صبح اس کی قبولیت کا نشان دیکھتا ہے اور قلم اٹھاتا ہے اور مجھے لکھنے لگتا ہے کہ احمد للہ کہ میرا ایمان آج کل کی نسبت زیادہ مضبوط ہے۔کہیں کوئی امریکہ کے مادہ پرست علاقوں میں جو بظاہر آبا دلیکن در حقیقت روحانیت کے لحاظ سے سنسان علاقہ ہے، وہاں کسی ذاتی ضرورت کے لئے یا کسی جماعتی ضرورت کے لئے دعا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے رویا میں وقت سے پہلے معین طور پر اطلاع دیتا ہے کہ ہاں میں نے تمہاری دعا کو سنا اور ایسا ہی ہوگا۔چنانچہ اس کے بعد جب وہ اس پیغام کو عملاً تعبیر کی صورت میں ڈھلتا ہوا دیکھتا ہے تو قلم اٹھاتا ہے اور مجھے لکھتا ہے کہ آج میں نے خدا کے قرب کا یہ نشان پایا اور یہ سب احمدیت کی برکت سے ہے۔یہ واقعات دنیا میں ہر جگہ ہور ہے ہیں۔پاکستان میں بھی ہورہے ہیں اور پاکستان سے باہر بھی ہو رہے ہیں، مشرق میں بھی ہو رہے ہیں اور مغرب میں بھی ہو رہے ہیں، یورپ میں بھی اور امریکہ میں بھی کوئی دنیا کا خطہ ایسا نہیں جو احمدیت کے نور سے منور ہو چکا