خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 522 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 522

خطبات طاہر جلد۵ 522 خطبہ جمعہ ۲۵/ جولائی ۱۹۸۶ء وارث تم بننے والے ہو۔يَجْعَلُكُمُ میں ایک مستقبل کی خبر ہے ،صرف ایک شرط کا جواب نہیں یعنی یہ نہیں فرمایا گیا کہ کون ہے جو خدا کے سوا تمہیں بنا سکتا ہے بلکہ معین خبر دی جا رہی ہے وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ تم لازماً اس زمین میں خلفاء بننے والے ہو۔اور خلفاء الارض سے مراد یہ ہے کہ بالآخر زمین کے وارث تم ہی بنائے جاؤ گے اور اس دنیا کی تقدیر کا فیصلہ تمہارے ذریعہ ہوگا۔آج کی دنیا میں یہ اعلان بہت عجیب معلوم ہوتا ہے لیکن چودہ سو سال پہلے تو بہت ہی عجیب تھا۔عرب کے ایک ایسے ملک میں جہاں جہالت پرورش پارہی تھی خدا تعالیٰ نے دنیا کا سب سے بڑا معلم پیدا فرما دیا۔اور اس وقت جبکہ دنیا کی تہذیب عرب کے دائیں سے بھی گزر جاتی تھی اور بائیں سے بھی گزر جاتی تھی اور عرب کی بے آب و گیاہ صحراؤں کو تہذیب سے کوئی دور کا بھی علاقہ نہیں تھا، اس وقت جبکہ سیاست بھی مشرق میں نشو و نما پا رہی تھی یا مغرب میں نشو و نما پارہی تھی اور سیاست سے خالی ایک جزیرے کی طرح یہ جزیرہ نما عرب واقع تھا، عرب قوم کی کوئی بھی حیثیت نہیں تھی ، کسری کی حکومت بھی اسے تذلیل کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی اور قیصر کی حکومت بھی اسے تخفیف کی نظر سے دیکھتی تھی۔یہی نہیں بلکہ جس وقت خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو یہ خوشخبری عطا فرمائی۔خود عرب میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی کوئی بھی حیثیت مسلم نہیں تھی۔مضطر کی دعا سے اس کلام کا آغا ز فرمانا ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت ابھی مسلمانوں کی اضطرار کی کیفیت تھی۔اس وقت یہ دعویٰ کرنا کہ بالآ خر تم ساری زمین کے وارث اور خلفاء بنائے جاؤ گے، ایک بہت ہی عجیب مگر بہت ہی عظیم الشان دعویٰ تھا۔پس آج بھی اس دعوی سے تعجب ہوتا ہے تو گزرے ہوئے کل میں تو یہ تعجب اور بھی زیادہ ناممکنات کی حدود میں داخل ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔مگر ایسا ہی ہوگا کیونکہ خدا کا کلام بہر حال پورا ہوتا ہے اور کوئی دنیا کی تقدیر، کوئی دنیا کی طاقت کوئی دنیا کی تدبیر سے بدل نہیں سکتی۔پس آج جبکہ دنیا میں ایک طرف سیاست کے دھارے رواں دواں ہیں اور دنیا کی قومیں یہ سمجھ رہی ہیں کہ بالآخر انسانوں کی تقدیر ان کے باہمی جنگ و جدال کے بعد ان میں سے ایک کے غلبہ پانے کے بعد طے ہوگی اور انسانوں کی تقدیر کی کنجیاں ان کے ہاتھوں میں تھمائی جائیں گی ، قرآن اس کے برعکس ایک اعلان کر رہا ہے اور قرآن کے اعلان کے مطابق آج وہی لوگ خدا کی زمین کے