خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 46

خطبات طاہر جلد۵ 46 خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۸۶ء ہے جو خدا تعالیٰ کو پسند نہیں۔اس لئے انبیاء کو مجبور کیا گیا کہ وہ اسباب بھی اختیار کریں اور جہاں تک ہو سکتا ہے کریں لیکن ساتھ یہ بھی کھول دیا گیا اور خوب کھول دیا گیا کہ رعایت اسباب اس لئے ضروری نہیں ہیں کہ اسباب تمہیں کسی مقام تک پہنچا ئیں گے۔تمہیں جو بھی غلبہ نصیب ہوگا وہ تمہارے اسباب کے بغیر ،انکے سہارے کے بغیر خالصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیب ہوگا اور تعلق الہی کاوہ ایک جلوہ ہوگا اس لئے دعائیں کرو اور اصل بناء دعا پر ہے، اصل بناء اللہ تعالیٰ کی مدد پر ہے۔ہم اسباب بھی اختیار کریں گے اس لئے کہ وہ قدیر خدا کی جلوہ نمائی ہے اور ہم خدا کی کسی صفت کے کسی حصہ سے بھی مستغنی نہیں ہو سکتے لیکن اصل بناء ہماری قادر خدا سے تعلق جوڑنے پر ہے کیونکہ جب تک ہم قادر خدا سے تعلق نہیں جوڑیں گے قدیر خدا سے تعلق رکھنے والے تو اتنے زیادہ ہیں اور اسباب کے بندے اس کثرت سے ہیں اور اس کثرت کے ساتھ اُن کو اسباب بھی ملے ہوئے ہیں کہ اسباب کے مقابل پر اسباب کے ذریعہ ہم غالب نہیں آسکتے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعائیں کیں بھی اور دعائیں سکھائیں بھی آپ فرماتے ہیں: اک کر شمہ اپنی قدرت کا دکھا تجھ کو سب قدرت ہے رب الوریٰ حق پرستی کا مٹا جاتا ہے نام ایک نشان دکھلا کہ ہو حجت تمام پھر ان دعاؤں کو خدائے قدیر نے اور خدائے قادر نے قبول بھی فرمایا اور اُس قبولیت کا ذکر بھی آپ فرماتے ہیں۔تیری رحمت ہے میرے گھر کا شہتیر میری جاں تیرے فضلوں کی پند گیر حریفوں کو لگے ہر سمت سے تیر گرفتار آگئے جیسے کہ نخچیر ہوا آخر وہی جو تیری تقدیر بھلا چلتی ہے تیرے آگے تدبیر