خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 45

خطبات طاہر جلد۵ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: 45 جس بات کو کہے کہ کرونگا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء پس ایسا خدا جب جلوہ گر ہو جائے تو اُس وقت انسان کے لئے دعا کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے اور تبھی مذہب میں دعا پر غیر معمولی زور دیا جاتا ہے۔تبھی قرآن کریم میں دعا پر غیر معمولی زور دیا۔تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دعا کے متعلق اتنا کچھ سکھایا کہ آپ گزشتہ صدیوں کا مواد اکٹھا کر کے دیکھ لیں جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کے مضمون پر لکھا ہے اُس کے قریب بھی نہیں پھٹکے گاوہ سب کچھ۔اپنے مواد کی کثرت کے لحاظ سے بھی اور مضمون کی گہرائی کے لحاظ سے بھی کیونکہ جب ایک قدرتوں والا خدا ہے جو بولتا بھی ہے، جو اپنے پیاروں سے پیار کرتا ہے اور پھر اُن کی تائید فرماتا ہے ، ان کے لئے غیرت دکھاتا ہے۔ایسے خدا سے تعلق قائم ہونا چاہئے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسے قادر خدا سے تعلق کے لئے اس کثرت کے ساتھ دعا کرتے تھے کہ آپ کی نظم میں بھی آپ کی نثر میں بھی بکثرت حیرت انگیز اثر کرنے والی دعا ئیں ملتی ہیں اور سب کے نمونے تو پیش کئے ہی نہیں جاسکتے لیکن اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ ملتا ہیں اُس سے بہت زیادہ ہے جو نہیں ملتا کیونکہ وہ رات کی خاموش دعا ئیں تھیں جو سب کے سب نہ بیان ہوئیں نہ لکھی گئیں اور دن کی خاموش دعا ئیں بھی تھیں۔ہر وقت دل اور دماغ اللہ تعالیٰ کی طرف مائل رہتا تھا اور خدا کے حضور کچھ نہ کچھ مناجات کرتارہتا تھا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں ہمیں ملتی ہیں اُن میں بھی جہاں قادر کا ذکر ہے بہت ہی وسیع مضمون وہاں نظر آتا ہے اور صاف دکھائی دیتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے غلبے کے لئے ایک ذرہ بھی اپنی ذات پر یا اُن ذرائع پر بھروسہ نہیں تھا جو ایک دنیا دار کی نگاہ دیکھ سکتی ہے۔خالصہ اللہ کی قدرت پر بھروسہ تھا۔اسی لئے میں اس مضمون کو یہاں تک لایا ہوں تا کہ جماعت کو اس بات کی طرف متنبہ کروں۔اسباب بھی چونکہ خدا کی ایک تقدیر کا حصہ ہیں اس لئے اُن سے روگردانی بھی ایک قسم کا تکبر