خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 47
خطبات طاہر جلد۵ 47 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء خدا نے ان کی عظمت سب اڑادی فسبحان الذي اخزى الاعادي ( در مین صفحه ۵۱) یہاں یہ بات بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ تدبیر بھی دو معنی رکھتی ہے۔ایک وہ تدبیر ہے جو خدا تعالیٰ کی تقدیر کو اختیار کرنے کے نتیجے میں کی جاتی ہے۔وہ تدبیر کامیاب ہوتی ہے عموماً سوائے اس کے کہ خدا کی کسی غالب تقدیر سے ٹکرا جائے اور ایک تدبیر ہے جو خدا تعالیٰ کی تقدیر کو بدلنے کے لئے کی جاتی ہے، وہ لا ز ما ہر صورت میں ناکام ہوتی ہے۔پس یہاں جس تد بیر کا ذکر فرمایا گیا ہے اس تدبیر کی ناکامی کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔پھر جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نصیحت فرماتے ہیں: اگر مصائب کے وقت میں تم مومن ہو اور خدا تعالیٰ سے صلح کرنے والے ہو اور اس کی محبت میں آگے قدم بڑھانے والے ہوتو وہ رحمت ہے تمہارے واسطے۔کیونکہ خدا قادر ہے کہ آگ کو گلزار کر دے۔اور اگر تم فاسق ہو تو ڈرو کہ وہ آگ ہے جو بھسم کرنے والی ہے اور قہر اور غضب ہے جو نیست ونا بود کرنے والا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۱۵۴۰) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدائے قادر کے بعد ایک ایسے جلوے سے فائدہ اٹھانے کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں جس طرف عموم آلوگوں کا خیال نہیں جاتا۔ہم عموماً خدائے قادر کو آفاقی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں یعنی گردو پیش میں اس کے جلوے ظاہر ہور ہے ہوں اور ہم لطف اندوز ہورہے ہوں کہ دیکھو ہمارے لئے خدائے قادر اس طرح جلوہ گر ہوا۔حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا عارف باللہ ہونا آپ کی ہر تحریر سے ثابت ہے۔ایسے ایسے گوشوں کی طرف ذہن کو منتقل فرما دیتے ہیں جن کی طرف عام انسان کا ذہن جاہی نہیں سکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں خدا کے قادر ہونے کو باہر ہی تلاش نہ کرو، اپنی ذات کے اندر بھی تلاش کرو، یہی نہ چا ہو کہ خدائے قادر کے جلوے باہر جلوہ گر ہوتے دیکھو، اپنی ذات میں بھی خدائے قادر کے جلووں کی طلب کرو، تمنارکھو اور التجا کرو کہ وہ تمہارے لئے جلوہ گر ہو۔کن معنوں میں فرمایا کہ تم اپنی ذات میں روحانی انقلاب پیدا کرنے کے اہل ہی نہیں ہونہ تو تم اس بات کے اہل ہو کہ بیرونی طور پر کوئی روحانی