خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 513 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 513

خطبات طاہر جلد۵ 513 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۶ء اس کے پیچھے حکمت ہے، حکمت یہ ہے کہ اس قسم کی سزا کا اختیار دینا اصلاح کی بجائے فساد کو بڑھانے کا موجب بن جاتا۔جرائم میں ایک بات واقعہ ہوتی ہے اور گستاخی کا جو فعل کسی کی طرف منسوب ہوتا ہے اس میں عملاً کچھ واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ہر شخص کو یہ اختیار ہے کہ بجائے کسی واقعہ کا ثبوت پیش کئے کسی کی طرف کوئی گستاخی منسوب کر دے۔دنیا سے امن اٹھ جائے اگر اس قسم کی گستاخیوں کی کوئی بھی سزا مقرر کی جائے۔جتنی سوسائٹی گندی ہو اتنا ہی زیادہ بدامنی کا موجب ہو جائے گی یہ سزا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ان کی کمزوریوں پر بھی اس کی نظر ہے۔وہ جانتا ہے کہ خواہ میری یا میرے نبی کی ناموس کی خاطر ان کو اجازت دی جائے مگر ان کے دل اس اجازت سے استفادہ کرنے کے اہل نہیں ہیں ، اگر آج ہیں تو کل نہیں رہیں گے اور ہوسکتا ہے کہ میری ناموس کے نام پر بالکل برعکس نتائج بھی نکالے جائیں یا میرے رسول کی ناموس کی حفاظت کی خاطر گستاخان رسول ناموس رسول کی حفاظت کرنے والوں کو سزائیں دینے لگیں۔یہی وہ خطرہ تھا جو آج حقیقت بن چکا ہے پاکستان میں اور دن بدن اس کی بھیانک صورت مزید ظاہر ہوتی چلی جائے گی۔جہاں تک پاکستان کے فرقوں کا تعلق ہے اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ آج اس قانون کو پاس کرتے وقت آپس میں انہوں نے یہی باتیں کی ہیں کہ ہم نے تو احمدیوں کو جھوٹا کرنے اور ذلیل کرنے کی خاطر ایک ہتھیار بنایا ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، تمہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ہمیں نپٹنے دو۔احمدیوں کی جان، مال اور عزت تمام پاکستان کے مسلمانوں پر اس قانون کے ذریعہ ہم حلال کر دیں گے۔ہر کس و ناکس جو چاہے گا جس عاشق رسول پر جب چاہے گا الزام لگائے گا کہ اس نے نعوذ باللہ من ذالک آنحضرت ﷺ کی گستاخی کی تھی اور اس کے نتیجہ میں یا اسے موت کی سزا دی جائے گی یا اسے ہیں سال قید کی سزادی جائے گی اور اگر کوئی خود اپنے ہاتھ میں یہ قانون لے بیٹھے گا تو اسے معمولی سی سرزنش کے بعد معاف کر دیا جائے گا کہ عملاً اس نے قانون کی روح کے مطابق کام کیا ہے۔یہ سازش ہے جو انہوں نے آپس میں پکائی ہے۔مگر اس سازش نے یہاں تو نہیں ٹھہرنا۔انہی فرقوں کا جب آپ جائزہ لیں تو بہت کھلی ہوئی ایسی حقیقت ہے جس پر پردہ ڈالا ہی نہیں جاسکتا کہ بریلوی شدت کے ساتھ اس وہابی فرقے پر جو اس قانون کے بنانے میں سب سے زیادہ عمل پیرا