خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 512
خطبات طاہر جلد۵ 512 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۶ء ہونے کے باوجود ، طلب کے ہوتے ہوئے بھی کہ اس کا سر اڑا دینا چاہئے پھر بھی آپ انکار فرماتے ہیں اس کا اور شفقت اور رحمت کی انتہاء دیکھئے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں لوگ یہ نہ کہیں اپنے ساتھیوں کو مرواتا ہے۔وہ اس لائق نہیں تھا کہ آنحضرت علی کا ساتھی کہلائے۔آنحضرت ﷺ کے ساتھیوں کی جو صفات قرآن میں بیان فرمائی گئی ہیں ان میں سے تو کوئی ایک صفت بھی اس شخص میں پائی نہیں جاتی تھی۔یہ صرف رحمت اور شفقت کا ایک انتہائی اظہار تھا۔فرمایا کہ کہیں یہ نہ کہیں لوگ کہ اپنے ساتھیوں کو مروا دیا کرتا تھا۔اگر قرآن کا کوئی حکم ہوتا ، اگر خدا کا کوئی واضح حکم ہوتا کہ نبی کی گستاخی پر اس کی قوم پر لازم ہے کہ وہ اسے قتل کرے تو کیا اس حکم کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ک تو اطلاع نہیں ہوئی تھی اور آج چودہ سو سال کے بعد پاکستان کے ملاؤں کو یہ اطلاع ملی ہے۔یعنی شارع نے تو محمد کو اطلاع دے دی آپ کو اس کا علم بخشا ، آپ کو اس کی حکمت عطا فرمائی لیکن آپ تو اس بات کو سمجھ نہیں سکے نعوذ باللہ من ذالک اور آج چودہ سو سال کے بعد آج کے ملاں یہ سمجھ گئے کہ نہیں ، اصل شریعت یہی ہے اور یہی شریعت کا حکم ہے۔یہ ہے گستاخی رسول اکرم ﷺ کی ، اگر گستاخی کی سزا ہے تو ان گستاخوں کو ملنی چاہئے جنہوں نے آنحضور ﷺ سے آگے قدم رکھا ہے۔آپ سے آگے تو کوئی قدم نہیں رکھ سکتا لیکن آپ سے آگے قدم رکھنے کا دعوی کیا ہے اور یہ دعوی ہی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کی شدید گستاخی ہے۔پس سب سے پہلے تو ان گستاخوں کو سزاملنی چاہئے جنہوں نے شریعت کے کاروبار اپنے ہاتھوں میں لے لئے اور اپنے آپ کو خدائی کا مقام بھی دے دیا کہ جس طرح چاہیں ہم شریعت میں تبدیلی پیدا کریں۔صلى الله صلى الله حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ سے پہلے جتنے انبیاء تھے ان کے گستاخوں کا تعلق ہے قرآن کریم میں ہر جگہ جہاں جہاں بھی ذکر ملا ہے وہاں خدا کی طرف سے ان کو سزا دینے کے عہد کی تکرار کی گئی ہے اور کسی جگہ بھی بندوں کو اس بات پر مامور نہیں فرمایا گیا کہ اس سزا کے معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لے لو۔کیا وجہ ہے جبکہ دوسرے ادنی جرائم کے نتیجہ میں حدود قائم کر دی گئیں کھلی کھلی تعلیم دے دی گئی۔چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، زنا کی سزا سو کوڑے لگانا ہے غرضیکہ اور اس قسم کی حدود قائم فرما دی گئیں ہیں۔اتنے بڑے جرم کے متعلق کوئی سزا مقر ر نہیں فرمائی۔