خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 514
خطبات طاہر جلد۵ 514 خطبہ جمعہ ۱۸؍جولائی ۱۹۸۶ء رہا ہے یہ الزام لگاتے رہے ہیں اور آج بھی لگا رہے ہیں کہ تمام اسلامی فرقوں میں سب سے زیادہ گستاخ رسول یہ لوگ ہیں۔بعض جگہ تو ذکر کر کے باقی فرقوں کا پھر نام لیا گیا ہے۔احمدیوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے کہ یہ سارے فرقے نعوذ باللہ من ذالک گستاخ رسول ہیں۔لیکن ان کی گستاخی سب سے بڑھ کر ہے اور واقعہ یہ ہے کہ بعض ایسے ایسے کلمات ان کے علماء نے آنحضرت عیہ کے متعلق اپنے مناظروں میں استعمال کئے ہیں کہ ان کو پڑھ کر دل دہل جاتا ہے کہ کس طرح آنحضرت سے محبت کا کرنے والا شخص ایسی زبان استعمال کرسکتا ہے۔اسے یہاں دہرانا تو مناسب نہیں یہاں اس کا موقع نہیں ہے لیکن یہ ساری کتابوں میں لکھی ہوئی باتیں ہیں اور عام عوام میں مشہور بھی ہیں۔ان کے علماء جہاں جہاں جوش دکھاتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف وہاں ان باتوں کو بڑی کثرت سے دہراتے ہیں اور لہلہا لہلہا کر دہراتے ہیں۔ہم تو کفر کی بات کو دہراتے ہوئے بھی حیا محسوس کرتے ہیں مگر ان کی تقریریں سنیں بعض ان میں سے ٹیپ ریکارڈ ہو کر میرے پاس پہنچتی ہیں، میرے پاس موجود بھی ہیں۔اس قدر لہک لہک کر بار بار گستاخی رسول کی باتیں دہراتے ہیں بکثرت بار بار کہ دل ہلا اٹھتا ہے کہ کاش اب بس کریں اس بات کو ، ایک دفعہ کہہ دیا کہ دیا اب کیوں بار باراس گستاخی کے کلمہ کو آنحضرت ﷺ کے متعلق بیان کرتے ہیں اور وہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ لوگوں میں اشتعال پیدا ہو کہ فلاں دیو بندی نے یہ کہا، فلاں دیو بندی نے یہ کہا ، فلاں دیوبندی نے یہ کہا اور ہم کسی قیمت پر بھی اس گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ہمارا تو ایک ولی ہے ہمارا تو ایک مولا ہے یعنی اللہ۔جو خدا سے ہٹ چکے ہوں ان کا تو کوئی مولا نہیں ہوتا۔جہاں تک ہماری حفاظت کا تعلق ہے وہ خدا کے ذمہ ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کا یہ ذمہ قائم ہے اور انشاء اللہ قائم رہے گا اور خدا کی راہ میں جو تکلیفیں پہنچیں گی ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے اور اس تعلیم کو ہماری فطرت میں رچا دیا گیا ہے کہ ہم ہنتے ہوئے صبر و شکر اور رضا کے ساتھ ہر اس تکلیف کو برداشت کریں گے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں ہمیں اٹھانی پڑے۔مگر ان کا کیا بنے گا جب یہ آپس میں لڑیں گے۔اس ملک میں اس قدر بدامنی پھیلے گی اس قانون کے نتیجے میں کہ آئے دن فسادات کا محور یہ قانون بن جائے گا کہ فلاں نے گستاخی رسول ﷺ کی تھی۔مسجدیں جلائی جائیں گی ، گھر لوٹے جائیں گے، عورتیں بیوائیں بنائی جائیں گی، بچے یتیم کئے جائیں گے محض