خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 480
خطبات طاہر جلد۵ 480 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء کی نگرانی رکھیں خدا کے فرشتوں کی طرح۔اگر ایسا ہوا اور خدا کرے کہ ہمیشہ ایسا ہی ہو تو پھر آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے اموال اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا مضمون اس مثال کے مطابق لا متناہی پھل اور لا متناہی بیجوں کا مضمون بن جائے گا۔دوسرا پہلو ایک ضمناً یہ بھی بیان کرنے کے قابل ہے کہ جو لوگ جماعت کے مالی قربانی کرنے والے با قاعدہ رجسٹر ڈ ہیں یعنی جن کو چندہ دہندگان کے طور پر شمار کیا جا چکا ہے ان میں بھی کئی قسمیں ہیں اور وہ سارے کے سارے اپنے آخری اعلیٰ معیار تک نہیں پہنچے ہوئے۔ایک بڑا طبقہ ان میں سے ایسا بھی ہے جو چندہ اگر شرح کے مطابق دیتا بھی ہے تو شرح مقرر کرتے وقت کچھ غفلتیں کر جاتا ہے۔بہت سے اندرونی ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق بیرونی آنکھ سے نہیں ہوا کرتا۔صرف اندرونی تقویٰ کی آنکھ سے ہوتا ہے۔ایک انسانی اپنی آمد مقرر کرتے وقت کئی قسم کے پیمانے استعمال کر سکتا ہے اور وہ کئی قسم کے پیمانے ایسے ہوتے ہیں بسا اوقات کہ ان میں سے ہر پیمانہ باہر کی آنکھ سے دیکھنے والے کے لئے ایک جائز پیمانہ ہوگا۔اس پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ تم نے اس پیمانے سے اپنے مال کو تو لا ہے تم نے جھوٹ بولا ہے، تم نے دھوکا کیا ہے لیکن اندرونی تقوی کا مضمون ایک ایسا دلچسپ مضمون ہے کہ جوں جوں تقویٰ کا معیار بڑھتا ہے خدا تعالیٰ نئے پیمانے بھی دکھانے لگتا ہے انسان کو اور انسان سمجھتا ہے کہ پہلے جب میں نے خدا کی راہ میں مال دینے کے لئے جو پیمانہ چنا تھا وہ تو چھوٹا تھا۔اگر اس پہلو سے دیکھوں تو اتنی مزید گنجائش اس میں موجود تھی وہ نہیں میں نے بھری ،اس پہلو سے دیکھوں تو اتنی اور بھی گنجائش موجود تھی وہ خانہ بھی خالی ہی رہا۔تو بعض لوگ تو اپنے اموال کے پیمانے تنگ کرنے کا رحجان رکھتے ہیں اور یہی سوچیں سوچتے رہتے ہیں کہ کس بہانے کم دوں اور جھوٹا بھی ثابت نہ ہوں اور بعض لوگ ہیں جو زیادہ دینے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں اور وہی ہیں جو حقیقی متقی ہیں۔ان کے اموال میں، ان کے ساتھ خدا کے فضلوں کے سلوک میں ایک ایسی شان پائی جاتی ہے جو دوسروں کو نصیب نہیں ہوتی اور وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ کا پوری طرح مضمون ان کے حق میں صادق آتا ہے۔کچھ ایسے بھی قربانی کرنے والے ہیں جو شرح کے مطابق ویسے ہی نہیں دے سکتے۔بعض ظاہری طور پر استطاعت نہیں رکھتے بعض باطنی طور پر استطاعت نہیں رکھتے۔بعضوں کے اخراجات