خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 479 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 479

خطبات طاہر جلد۵ 479 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء اور جو خدا کی راہ میں قربانیاں کرتے ہیں اخلاص اور تقویٰ سے ان کے ساتھ تو خدا کا معاملہ ہونا ہی ہونا ہے ان کے متعلق تو بعض بزرگوں کے اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ سات سات نسلوں تک ان کی اولادیں ان کی قربانیوں کا فیض کھاتی ہیں۔اس لئے اس مثال کو ان تین جہتوں سے دیکھیں تو دیکھیں معاملہ کتنا پھیلتا چلا جاتا ہے اور مزید جہتیں بھی اس میں تلاش کریں تو سات بالیوں کی مثال بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ ایک دانہ کس قسم کی سات بالیاں اگاتا ہے۔خرچ کرنے والے، ان کی اولادیں، ان کی بیویاں وہ جو پیش کر رہے ہیں ان کی اولادیں ان کی بیویاں اور وہ خود ، اور اسی طرح اگر آپ دعائیں کرنے والوں کو بھی ساتھ شامل کر لیں جو کچھ کر نہیں سکتے مگر بڑے درد دل کے ساتھ اللہ کی راہ میں ان لوگوں کے لئے دعائیں کرتے ہیں تو معلوم یہ ہوتا ہے سات کا عدد تو ایک صرف تکمیل کے عدد کے طور پر ہے اس کی شاخیں نکلتی چلی جائیں گی وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ کا مفہوم بھی سمجھ آنے لگتا ہے۔سات کی تعداد کوئی ایسی تعداد نہیں ہے آپ سات کا عدد پورا کر کے سمجھیں کہ خدا کے فضلوں کے عدد پورے ہو گئے بلکہ یہ خوشخبری ہے کہ تم گنوسات تک تمہیں ایک دانہ سات بالیوں پر منتج ہوتا دکھائی دے گا لیکن اگر اپنے رب پر حسن ظن رکھو گے اور اگر تم قربانیوں کے تقاضے پورے کرو گے تو ایک دانہ سات بالیاں نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ بالیاں اگائے گا اور وہ تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور جب خدا تعداد غیر معین کر دیتا ہے تو پھر وہ غیر معین ہی رہتی ہے۔پھر اس میں اس تعداد کی حد بندی ہماری محنتوں کی حد بندی کے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہے، ہمارے خلوص کی حد بندی کے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہے،خدا کے فضل کی پھر کوئی حد بندی نہیں رہتی۔تو اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو ایسے رستے پر ڈال چکا ہے جو بکثرت بڑھتے چلے جانے والا رستہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ مالی قربانی کے اس معیار پر قائم ہو چکی ہے جسے چوٹی کی مالی قربانی کہا جا سکتا ہے، جسے ربوہ کی مالی قربانی کہا جاسکتا ہے ،اونچے پہاڑی علاقوں کی مالی قربانی سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے۔اب جو فکر ہے وہ کل کی فکر ہے آج کی تو کوئی فکر نہیں رہی اور کل کی فکر مجھے اس پہلو سے ہے کہ مال خرچ کرنے والے متقی پیدا ہوں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ تقویٰ رکھنے والوں کے ہاتھ میں جماعت کی قربانیوں کے اموال دے۔انہی کو برکت دے، انہی کو تو فیق عطا فرمائے کہ ان جگہوں پر بیٹھیں جن جگہوں سے خرچ ہونے کے لئے ان اموال نے گزرنا ہے اور ان