خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 481
خطبات طاہر جلد۵ 481 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء اتنے ہوتے ہیں آمد کے مقابل پر کہ بے چارے مجبور ہوتے ہیں اور بعضوں کے دل اتنے چھوٹے ہوتے ہیں آمد کے مقابل پر کہ وہ بھی بے چارے مجبور ہو جاتے ہیں۔جانتے ہیں نیکی کا کام ہے، جانتے ہیں اچھی بات ہے، محبت بھی رکھتے ہیں سلسلہ سے مگر مٹھی نہیں کھلتی۔کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک سیٹھ کو اللہ تعالیٰ ایک کروڑ روپیہ عطا کر رہا ہے اور اس میں سے وہ چھ لاکھ روپیہ سالانہ دینا شروع کر دے۔اس لئے وہ دل کے غریب ہوتے ہیں بے چارے۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے الغنى غنى النفس ( بخاری کتاب الرقاق حدیث نمبر : ۵۹۶۵) کہ تم امیری کو دولت گننے کے طریق پر نہ معین کیا کرو، امیری تو دل سے تعلق رکھنے والی چیز ہے یا دل امیر ہوتے ہیں یا دل غریب ہوتے ہیں اور ظاہری دولت کا پیمانہ درست نہیں بلکہ اس اندرونی دولت کے پیمانے پر خدا کی نظر میں یا کچھ لوگ امیر ٹھہرتے ہیں یا کچھ لوگ غریب ٹھہرتے ہیں۔مگر ان کا معاملہ بھی لا علاج نہیں ہے۔بار بار کی تذکیر، بار بار کا توجہ دلانا تو ان پر ضرور اثر کرتا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی اموال کے معاملہ میں میں خطبہ دیتا ہوں تو کثرت کے ساتھ ایسے خطوط ملتے ہیں جو اعتراف کرتے ہیں اس بات کا کہ ہمیں پہلے توفیق نہیں تھی ، ہمت نہیں پڑتی تھی مگر خطبہ سنا ہے دل میں ایک تبدیلی پیدا ہوئی ، چند دن غور کیا اور آخر فیصلہ کر لیا ہے کہ جو کچھ بھی ہوگا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سیدھامعاملہ کرنا ہے اور بعض جو اپنے راز کھولتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ کیا کیا بہانے بنا کر بے چارے بیٹھے ہوئے تھے نیکی سے محروم اور صرف یہی نہیں اس خط کے بعد جو بعد میں خط آتے ہیں ان کا رنگ ہی اور ہو جاتا ہے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس فیصلہ کے بعد کہ ہم نے خدا کے ساتھ اپنے معاملات سیدھے کر لئے ہیں ان کے دلوں میں ایسی بشاشت پیدا ہو جاتی ہے، ایسا نور ان کو عطا ہوتا ہے کہ بعض لکھنے والے کہتے ہیں کہ ہمیں تو زندگی کا اب مزہ آنا شروع ہوا ہے۔پہلے گھٹن سی تھی ، ایک بے چینی اور ایک بدمزگی سی تھی زندگی میں لیکن جب سے ہم نے اپنے دل کو صاف اور سیدھا کیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑے لطف کی زندگی بسر کرنے لگ گئے ہیں۔تو وہ بھی ہیں جن میں ابھی گنجائش موجود ہے اور اس کے علاوہ بہت سی تعداد ایسے احمدیوں کی ہے جو تربیت کی کمی کی وجہ سے یا سلسلہ کے نظام میں محنت کرنے والوں کی کمی کی وجہ سے چندہ دے ہی نہیں رہے۔ہر جگہ اس کی گنجائش موجود ہے، بڑے شہروں میں بھی موجود ہے۔