خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 403 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 403

خطبات طاہر جلد۵ 403 خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۸۶ء کےسارےاس کثرت کے ساتھ آج خدا کے گھروں میں اکٹھے ہوئے ہیں کہ سارا سال کبھی خدا کے گھر اس طرح آباد نہیں ہوئے تھے۔یہ خاص دن ہے اور اس کی خصوصیت سے انکار ممکن نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت ایک عجیب شان دکھاتی ہے۔اس کے عجیب جلوے ہیں اور بعض شان کے جلوے یہ بھی ہیں کہ گنہگار بندوں کے اجتماع پر بھی اس کو رحم آجاتا ہے جو اس کے نام پر اکٹھے ہوں ان کے اجتماع کو دیکھ کر وہ رحمت خاص طور پر جوش دکھاتی ہے اور غیر معمولی جلوہ کے ساتھ اپنے بندوں کے اوپر مغفرت اور عفو کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ایسا ہی ایک نظارہ قرآن کریم نے ہمارے لئے محفوظ کیا تا کہ یہ منظر بھی ہماری نظر سے پوشیدہ نہ رہے۔حضرت یونس کی قوم کی تصویر قرآن کریم کھینچتا ہے کہ کس طرح اس قوم کو باوجود اس کے کہ دن رات گناہوں میں اس درجہ ملوث تھی کہ خدا کی تقدیر نے اس ساری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور ایسا قطعی فیصلہ کیا کہ وقت کے نبی کو اس دن سے مطلع فرما دیا ، اس صبح سے آگاہ کر دیا جس صبح اس قوم کی صف پیٹی جانی تھی اور ہدایت فرمائی کہ تم اس جگہ کو چھوڑ کر یہاں سے ہجرت کر کے چلے جاؤ۔اس کے باوجود وہ گنا ہوں سے آلودہ بستی تھی جس میں اس کثرت سے گناہ گار تھے کہ ان کے اندر شاید ایک بھی ایسا معصوم باقی نہیں تھا جس کے صدقے ان کو بخشا جا سکتا ہو۔جو بچانے کے لائق قرآن کریم بیان فرماتا ہے وہ ایک ہی شخص خدا کا بندہ یونس تھا جو بستی کو چھوڑ کر الگ ہو گیا۔اس سے زیادہ گنہ گار ہستی کا اور تصور ممکن نہیں ہے مگر جب وہ گنہگار لوگ بھی اپنی بیویوں ، اپنے بچوں کو لے کر ، بڑے اور چھوٹے اور مرد اور عورتیں اور بوڑھے اور جوان اور ان کے جانور بھی سارے خدا کی خاطر خدا سے بخشش مانگنے کے لئے ایک میدان میں اکٹھے ہوئے اور گریہ وزاری کا ایک طوفان برپا ہو گیا اور خدا کے حضور وہ ہر طرح سے روئے اور چلائے اور آہ و بکا کی اس کے حضور گرے اور تڑپے اور بے قرار ہوئے اور اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہار کیا۔تو ایک عجیب خدا کی رحمت کی شان ظاہر ہوئی کہ باوجود اس کے کہ وقت کے نبی کو مطلع فرما دیا گیا تھا کہ اس قوم کی ہلاکت کا دن آپہنچا ہے اور وہ منحوس صبح طلوع ہونے والی ہے جس صبح کو اس قوم کی صف لپیٹ دی جائے گی۔اس کے باوجود خدا کی رحمت نے اس وعید کو ٹال دیا اور اس قوم کو نجات بخشی۔