خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 379
خطبات طاہر جلد ۵ 379 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء نمازوں کا دکھ نہیں پہنچے گا تم بے دھڑک ہو کر میری عبادتیں کرو۔ میں کافی ہوں تمہاری طرف سے دشمن کے لئے ۔ (مسند احمد بن حنبل کتاب باقی مسند المشرکین حدیث نمبر : ۱۰۷۶۹) علي عجیب شان ہے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ایمان کی بھی کہ جہاں تک میدان جنگ کا تعلق ہے جہاں تک دشمن کے حملہ آور ہونے اور حملہ آور ہونے پر ہمیشہ تیار رہنے کا تعلق رہونے پر ہمیشہ تیار رہنے کا علق ہے ایک ذرہ بھی کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی تھی ۔ اسی طرح مسلمانوں کو خطرہ لاحق تھا۔ جس طرح ایک دن پہلے خطرہ لاحق تھا ، اسی طرح دشمن صف آرا تھا جس طرح ایک دن پہلے صلى الله عروسة صف آرا تھا اور خدا تعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ اللہ کافی ہے تو آنحضور علی سمجھ گئے کہ کیا صلى الله مطلب ہے۔ آپ جانتے تھے کہ میرے خدا نے میرے دکھ کو دیکھ لیا ہے۔ عبادت کے نقصان سے جو مجھے صدمہ پہنچا تھا۔ یہ وعدہ ہے اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کا کہ اے محمد ﷺ عبادتیں علی وسلام کر تو اور تیرے ساتھی۔ میں کافی ہوں دشمن کو سنبھالنے کے لئے ۔ تم عبادتیں کر رہے ہو گے میں تمہاری خاطر لڑ رہا ہوں گا۔ کتنا عظیم مقام ہے عبادت کو۔ پس آپ بھی عبادت پر قائم ہوں ، اگر آپ عبادت پر - قائم ہو جائیں گے اور عبادت کے ضائع ہونے کا دکھ محسوس کرنے لگیں تو کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے جو آپ کو مغلوب کر سکے، کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے جو آپ پر غالب آسکے ۔ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزُ ۔ جس خدا کے آپ بندے بن رہے ہوں گے، جس کے حضور جھک رہے ہوں گے، جس کے حضور عبادتیں کر رہے ہوں گے وہی خدا آپ کے لئے کافی ہوگا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو ” وہ خدا بڑا زبردست اور قوی ہے جس کی طرف محبت اور وفا کے ساتھ جھکنے والے ہرگز ضائع نہیں کئے جاتے ۔ دشمن کہتا ہے کہ میں اپنے منصوبوں سے ان کو ہلاک کر دوں اور بد اندیش ارادہ کرتا ہے کہ میں ان کو کچل ڈالوں مگر خدا کہتا ہے کہ اے نادان کیا تو میرے ساتھ لڑے گا اور میرے عزیز کو ذلیل کر سکے گا۔ در حقیقت زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا مگر وہی جو آسمان پر پہلے ہو چکا اور کوئی زمین کا ہاتھ اس قدر سے زیادہ لمبا نہیں ہو سکتا جس قدر کہ وہ آسمان پر لمبا