خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 380 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 380

خطبات طاہر جلد۵ 380 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء کیا گیا ہے۔پس ظلم کے منصوبے باندھنے والے سخت نادان ہیں جو اپنے مکروہ اور قابل شرم منصوبوں کے وقت اس برتر ہستی کو یاد نہیں رکھتے جس کے ارادے کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔لہذا وہ اپنے ارادوں میں ہمیشہ ناکام اور شرمندہ رہے ہیں۔اور ان کی بدی سے راستبازوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا بلکہ خدا کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خلق اللہ کی معرفت بڑھتی ہے وہ قومی اور قادر خدا اگر چہ ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عجیب نشانوں سے اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹) پس حقیقت یہ ہے کہ جہاں بھی دشمن اپنے ظاہری غلبہ کی وجہ سے اپنی عددی برتری کی وجہ سے خدا کی جماعتوں پر حملہ آور ہوتا ہے ان کا سب سے بڑا، سب سے مؤثر ہتھیار یہی ہے کہ وہ اپنے خدا کے حضور جھک جائیں ، اس کے آستانہ پر گریں، اس کے حضور دعائیں کریں ، اس سے گریہ وزاری کریں ، عبادت سے پیار کریں اور اپنا سب کچھ اسی کو سمجھیں۔ان کی جان، ان کی عزت، ان کا مال سب کا مرکز ان کی عبادتیں ہیں۔اپنی عبادتوں کا مقام اور اس کے مرتبے کو بڑھائیں یہاں تک کہ خدا کے پیار کی نگاہیں پڑیں ان عبادت کرنے والوں پر اور ان دلوں پر جن میں خدا کی محبت جنم لے رہی ہوتی ہے اور نئے نئے شگوفے پیار کے چھوڑ رہی ہوتی ہے۔وہ مناجات کرتے ہیں غیب میں اور اس رنگ میں مناجات کرتے ہیں کہ جس طرح بہار میں کلیاں پھوٹتی ہیں اور کئی قسم کے رنگ مٹی سے ظاہر ہوتے ہیں اسی طرح انسانی مٹی سے خدا کی محبت کے نئے نئے پھول، نئے نئے شگوفے بن کے پھوٹ رہے ہوتے ہیں۔یہ وہ چمن ہے جس کی خدا حفاظت کرتا ہے اور ہرگز دشمن کو اجازت نہیں دیتا کہ اس چمن کو برباد کر دے۔پس اے میرے پیارے احمدی، میرے بھائیو! میری ماؤں ! میری بہنوں! میری بیٹیو! خدا کے حضور عبادت میں اپنی طاقتوں کو انتہا تک پہنچا دو۔اپنے سینوں میں وہ گلزار کھلاؤ جس گلزار کو خدا پیار سے دیکھتا ہے اور محبت کی نگاہیں ڈالتا ہے۔تم اگر ایسا کرو تو یقینا دنیا کی کوئی طاقت تم پر غالب نہیں آسکے گی۔ہر وہ ہاتھ جو تمہاری طرف اٹھے گا آسمان اس کو للکارے گا یہ آواز دے گا۔ع بترس از تیغ بران محمد